جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

ہزاروں کشمیری خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے، بھارتی مظالم اور پھر لاک ڈائون سے تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی

datetime 18  اپریل‬‮  2020 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں ’’ کشمیر ٹریڈ الائنس‘‘ نے کہا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں موجود غیر کشمیری مزدوروں اور کاریگروں کو مفت راشن اور نقد امداد فراہم کررہی ہے جبکہ مقامی (کشمیری) مزدوروں ، محنت کشوں اور ضرورت مندوں کو نظر انداز کرہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق

’’کشمیر ٹریڈ الائنس ‘‘ کے صدر اعجاز شہدار نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ بھارتی انتظامیہ کشمیر میں موجود غیر ریاستی مزدوروں کو مفت راشن اور نقد رقوم دے رہی ہے جبکہ کشمیری محنت کشوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں لاکھوں مزدور ، کاریگر، سیلز مین ، چھاپڑی فروش اور دیگر غریب طبقے گزشتہ دو ہفتوں سے گھروں میں بے کار بیٹھے ہوئے ہیں جن کے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے وادی میں اس وقت ہزاروں غریب کنبے فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ شہدار نے کہا کہ گو کہ مختلف بھارتی ریاستوں کے وادی میں موجود غیر کشمیرمزدوروں کے پاس بھی اس وقت کوئی کام کاج نہیں اور انہیں امداد فراہم کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس امدادی کام میں مقامی محنت کشوں اور غریبوں کے ساتھ کوئی امتیاز یا تفریق نیں برتی جانی چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور انکے بھی اہلخانہ ہیں۔ اعجاز احمد شہدار جو کشمیر اکنامک الائنس کے نائب چیئرمین بھی ہیں نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے وادی میں لاکھوں لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ان میں وہ محنت کش بھی شامل ہیں جو دن کو مشقت کر کے کچھ کماتے ہیںاور شام کو انکے گھروں کے چولہے جلتے ہیں لہٰذا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو فاقہ کشی سے بچانے کیلئے انہیں کھانے پینے کا سامان اور ادویات خریدنے کے لیے امداد فراہم کرے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…