اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ہزاروں کشمیری خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہو گئے، بھارتی مظالم اور پھر لاک ڈائون سے تشویشناک صورتحال پیدا ہو گئی

datetime 18  اپریل‬‮  2020 |

سرینگر (این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں ’’ کشمیر ٹریڈ الائنس‘‘ نے کہا ہے کہ قابض بھارتی انتظامیہ مقبوضہ علاقے میں موجود غیر کشمیری مزدوروں اور کاریگروں کو مفت راشن اور نقد امداد فراہم کررہی ہے جبکہ مقامی (کشمیری) مزدوروں ، محنت کشوں اور ضرورت مندوں کو نظر انداز کرہی ہے جو انتہائی افسوسناک ہے۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق

’’کشمیر ٹریڈ الائنس ‘‘ کے صدر اعجاز شہدار نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ بھارتی انتظامیہ کشمیر میں موجود غیر ریاستی مزدوروں کو مفت راشن اور نقد رقوم دے رہی ہے جبکہ کشمیری محنت کشوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر میں لاکھوں مزدور ، کاریگر، سیلز مین ، چھاپڑی فروش اور دیگر غریب طبقے گزشتہ دو ہفتوں سے گھروں میں بے کار بیٹھے ہوئے ہیں جن کے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے وادی میں اس وقت ہزاروں غریب کنبے فاقہ کشی کی صورتحال سے دوچار ہیں۔ شہدار نے کہا کہ گو کہ مختلف بھارتی ریاستوں کے وادی میں موجود غیر کشمیرمزدوروں کے پاس بھی اس وقت کوئی کام کاج نہیں اور انہیں امداد فراہم کرنا ایک اچھا اقدام ہے لیکن اس امدادی کام میں مقامی محنت کشوں اور غریبوں کے ساتھ کوئی امتیاز یا تفریق نیں برتی جانی چاہیے کیونکہ وہ بھی انسان ہیں اور انکے بھی اہلخانہ ہیں۔ اعجاز احمد شہدار جو کشمیر اکنامک الائنس کے نائب چیئرمین بھی ہیں نے مزید کہا کہ لاک ڈائون کی وجہ سے وادی میں لاکھوں لوگ گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور ان میں وہ محنت کش بھی شامل ہیں جو دن کو مشقت کر کے کچھ کماتے ہیںاور شام کو انکے گھروں کے چولہے جلتے ہیں لہٰذا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو فاقہ کشی سے بچانے کیلئے انہیں کھانے پینے کا سامان اور ادویات خریدنے کے لیے امداد فراہم کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…