جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کا خوف، متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں امریکیوں نے ا پنے ملک واپس جانے سے انکار کر دیا

datetime 15  اپریل‬‮  2020 |

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) 75 ہزار سے زائد متحدہ عرب امارات میں مقیم امریکیوں نے امریکہ واپس جانے سے انکار کر دیا ہے، یو اے ای میں موجود امریکی سفیر جون ریکولٹا جونیئر کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں مقیم ہزاروں امریکی یہیں رہنا چاہتے ہیں اور وہ واپس اپنے ملک جانے کی خواہش نہیں رکھتے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات سے بہت کم امریکی شہری واپس جانا چاہتے ہیں لیکن امریکی سفارتخانہ انہیں بھی یہاں رکنے کی تجویز دے گا۔ متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی سفیر کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کی طرف سے کوئی باقاعدہ رجسٹریشن سسٹم نہیں بنایا گیا لیکن فون کالز اور ای میلز کی تعداد سے تخمینہ لگایا جائے تو صرف چند سو امریکی ہی واپس جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارا خیال ہے کہ ان کے لیے یہ جگہ بہترین ہے اور انہیں ہم واپس جانے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ سفیر نے کہاکہ میں خود بھی یہاں رہنے کو ہی ترجیح دوں گا، مجھے اس جگہ سے محبت ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں اس مہلک وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بہت زیادہ ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں حالات بہت حد تک کنٹرول میں ہیں اور یہاں مکمل لاک ڈاؤن ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ امریکیوں نے یہاں رہنے کو ترجیح دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…