جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس سے پابندیاں دنیا کی تمام ایئر لائنز کو غیر معمولی نقصان کا سامنا

datetime 22  مارچ‬‮  2020 |

دبئی(این این آئی) خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کو متوقع طور پر7 ارب ڈالر خسارے کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق فضائی سفر پرپابندیاں، ریزرویشن میں کمی، سیاحوں کی آمد ورفت کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں کے ٹھپ ہونے سے فضائی کمپنیوں کو غیرمعمولی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کرونا وائرس نے دنیا کی تمام ایئر لائنز کے لیے حقیقی نقصانات کا ایک طوفان برپا کردیا ہے۔

اس کی تباہ کاریاں خلیجی فضائی کمپنیوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن( آئی اے ٹی اے) نے رواں سال کے دوران ہوائی اڈوں پر کرونا وائرس کے اثرات کے بارے میں انتہائی مایوس کن توقعات کا اظہار کیا ۔فضائی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ کام کرنے والے لاکھوں افراد کے بے روز گار ہونے کا اندیشہ ہے۔ صرف خلیجی ممالک کی فضائی کمپنیوں کی بندش سے تین لاکھ 47 ہزار افراد کی ملازمت ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔آئی اے ٹی اے کے ذریعہ شائع کردہ معلومات کے مطابق کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے جنوری کے آخر سے مشرق وسطی میں 16 ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ کردی گئیں۔سفری تحفظات اوراپنے ممالک سے باہر سفر سے اجتباب کی وجہ سے ہوا بازی کے شعبے کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔آئی اے ٹی اے کا کہنا تھا کہ متوقع کساد بازاری کے نتیجے میں مزید غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے جو مہلک وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے مختلف ممالک اٹھائیں گے۔ گذشتہ مہینوں کے مقابلے میں مارچ اور اپریل میں فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں مزید 40 فی صد کمی ہونے کا امکان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…