جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

سوشل میڈیا قواعد پر عملدرآمد معطل، پی ٹی اے نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 3  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن)100 سے زائد تنظیموں اور افراد کی جانب سے سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 پر حکومت سے بات چیت کا بائیکاٹ سامنے آنے کے بعد حکام نے وضاحت کردی کہ ان قواعد پر عملدرآمد پہلے ہی معطل کیا جاچکا ہے۔خیال رہے کہ حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے ان قواعد کی قانونی حیثیت واضح کرنے سے انکار کردیا ہے۔

جس کی بغیر ’کوئی بھی مشاورت رائے لینے کی حقیقی کاوش نہیں بلکہ محض تنقید کو کم دور کرنے کا حربہ ہوگی‘۔اس سلسلے میں جب قواعد کی موجودہ حیثیت کی وضاحت کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین عامر عظیم باجوہ سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ’مشاورتی عمل کے آخر میں ان قواعد کو بہتر بنانے/ترمیم کرنے کرنے کی توقع ہے اس لیے (موجودہ) قواعد پر عملدرآمد معطل کیا جاچکا ہے‘۔قبل ازیں کابینہ کی جانب سے منظور کردہ قواعد پر مختلف شعبہ جات اور سوشل میڈیا پلٹ فامرز کی کمپنیوں کی مخالفت کے باعث وزیراعظم نے اس پر اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کا اعلان کیا تھا۔جس کے بعد 29 فروری کو ان قواعد کی میمو دستاویز جس پر سرکاری گزیٹ میں عنقریب شائع ہونے کا لیبل لگادیا گیا تھا، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ کمیونیکیشن کی ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔دوسری جانب 100 سے زائد حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کے بائیکاٹ کے باوجود وزارت آئی ٹی کی جانب سے وزیراعظم کی ہدایات پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے لیے پی ٹی اے چیئرمین کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا۔کمیٹی میں ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی اعزاز اسلم ڈار، ڈیجیٹل پاکستان کی سربراہ تانیہ ایدروس اور فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹرارسلان خالد شامل ہیں۔

اس کے علاوہ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور بیرسٹر علی ظفر کے بھی اس کارروائی میں شریک ہونے کی توقع ہے۔اجلاس کے بعد جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق کمیٹی نے فوری طور پر ’سول سوسائٹی، انسانی اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیموں، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ وسیع البنیاد اور کھلے مشاورتی عمل کا فیصلہ کیا تا کہ مختلف فورمز کی جانب سے تحفظات کے اظہار کو دور کرنے کے لیے تعمیری رائے دینے کی درخواست کی جائے‘۔

پی ٹی اے نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے لینے کے لیے ایک سوالنامہ اور مشاورتی عمل کا ایک عارضی جدول آفیشل ویب سائٹ پر جاری کردیا جائے گا۔اس ضمن میں وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد نے کہا کہ تمام کارروائی جامع ہوگی اور شفاف طریقے سے کی جائے گی۔انہوں نے بتایا کہ ’ان قواعد کا اطلاق ابھی نہیں کیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے کسی بھی رول کو لاگو کرنے سے قبل واضح طور پر فوری وسیع البنیاد مشاورت کی ہدایت کی ہے‘۔خیال رہے کہ 28 جنوری کو وفاقی حکومت نے ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی تھی جس کا اعلان 12 فروری کو کیا گیا تھا۔ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…