جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

دہلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار ہندو قوم پرست بی جے پی کا پھیلایا ہوا نفرت کا زہر ہے، بھارت کون سی بیماری میں مبتلا ہے؟ اروندھتی رائے نے سچی اور کھری بات کر دی

datetime 2  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی معروف مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتی رائے نے انتہا پسندی کو بھارت کا کورونا وائرس قرار دیدیا۔نئی دہلی میں جنتر منتر کے مقام پر ایک ریلی سے خطاب کے دوران اروندھتی رائے نے کہا کہ یہ وہ بیماری ہے جس میں بھارت مبتلا ہے، یہ جنگ آمریت اور مزاحمت کے درمیان ہے، جس میں مسلمان سب سے پہلا نشانہ ہیں۔

اروندھتی رائے نے اپنے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو “بدترین آمر” اور ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر حملوں کا ذمہ دار قرار دیا۔مصنفہ و سماجی کارکن اروندھتی رائے نے کہا کہ انتخابات میں شرمناک شکست پر بی جے پی اور آر ایس ایس دہلی سے انتقامی کارروائی پر اتر آئی ہے اور آنے والے بِہار الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہی ہے۔اروندھتی رائے نے کہا کہ تمام حقائق ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا جارہا ہے، حکمران جماعت کے رہنماؤں کی اشتعال انگیز تقاریر، جے شری رام کے نعرے لگا کر حملہ کرنے والوں، خاموش تماشائی بنے یا جلاؤ گھیراؤ میں شامل اور نیم مردہ حالت میں مسلمان نوجوانوں پر ڈنڈے برسا کر ترانہ گانے پراصرار کرنے والے پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہلی میں تشدد، فسادات نہیں، مسلمانوں کے خلاف منظم بربریت ہے۔بھارتی مصنف کینان ملک نے برطانوی اخبار دی گارڈین میں اپنے مضمون میں لکھا کہ دہلی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کی ذمہ دار ہندو قوم پرست بی جے پی کا پھیلایا ہوا نفرت کا زہر ہے۔مضمون میں دہلی میں مسلمانوں پر تشدد پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ شہریت قانون کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کے بھارت کے روہنگیا بن جانے کا خدشہ لاحق ہے۔ حکمران جماعت ہندتووا کے نظریے پر عمل پیرا ہے، جو بھارت کو صرف ہندو دیکھنا چاہتے ہیں، بی جے پی کے وزیر گری راج سنگھ آزادانہ کہتے پھرتے ہیں کہ تقسیم کے وقت تمام مسلمانوں کو پاکستان بھیج دینا چاہیے تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…