اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

اگر آپ ذہنی طور پر تھکے ہوئے ہیں تو بس کچن میں جائیں  اور یہ ایک کام کریں ، دوران تحقیق حیرت انگیز نتائج

datetime 20  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرن ڈیسک)عام طور پر روزمرہ گھر کے کام کاج میں یکسانیت کی وجہ سے انسان اکتا جاتا ہے لیکن ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھریلو کام کاج خاص طور پر برتن دھونے کو ذہنی دباؤ کم کرنے کی مشق کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جس کے باعث تھکے ہوئے دماغ کو آرام پہنچایا جاسکتا ہے۔برتن دھونے کے کام کو روایتی طور پر اکتا دینے والا اور مشقت کا کام سمجھا جاتا ہے، لیکن یہ کام دن کے اختتام پر ذہنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے ایک موثر طریقے کے طور پر کام کرسکتاہے۔فلوریڈا اسٹیٹ یونیورسٹی میں اس بات پر تحقیق کی کہ روزمرہ کے گھریلو کام کاج کرنے کے دوران کیا ذہنی دباؤ اور پریشانی کا علاج کیا جاسکتا ہے؟ تحقیق سے ثابت ہوا برتن دھونا موجودہ لمحے کی سوچ اور خیالات پر توجہ مرکوز رکھنے کی ایک مشق ہے یا اپنی سوچوں سے آگاہی حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے۔اس مقصد کے لیے کی گئی ایک تحقیق میں ماہرین نے 51 لوگوں کو لیا،جنھیں دو گروپ میں تقسیم کیا گیا اور برتن دھونے سے قبل اور بعد میں شرکاء کی شخصیت کے مثبت اور منفی پہلو اور نفسیاتی کیفیت کامعائنہ کیا گیا۔تحقیق کاروں ایک گروپ سے کہا کہ وہ برتن دھونے سے قبل مائنڈ فل نیس کے بارے میں ایک پیراگراف کا مطالعہ کریں اور برتن دھونے کے دوران صابن کی بو، پانی کی گرمی اور برتنوں کو تھمانے کے احساس کا تصور کریں، اس کے بعد انھیں 18 صاف برتن دھونے کے لیے دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو براہ راست برتن دھونے کے لیے بھیج دیا گیا۔

جن شرکاء کو ہدایات دی گئی تھیں، انھوں نے اپنی گھبراہٹ پر 27 فیصد قابو پالیا اور ان کی ذہنی بیداری میں 25 فیصد اضافہ ہوا، دوسری جانب جس گروپ نے بغیر ہدایات کے برتن دھوئے ، ان کی ذہنی سطح میں کوئی فرق ظاہر نہیں ہوا ۔محققین نے اخذ کیا کہ روزمرہ کی جانے والی مثبت سرگرمیوں میں مصروف ہوکر مائن مائنڈ فل نیس اور اس کے مثبت اثرات کو پیدا کیا جاسکتا ہے.سائنسی جریدے ‘جرنل مائنڈ فل نیس ‘میں محققین نے بتایا کہ جن لوگوں نے برتن دھونے سے پہلے مائنڈ فل نیس کی تکنیک حاصل کی تھی، ان میں ذہنی بیداری زیادہ تھی اور اس کام کے لیے ان میں منفی اثرات کم تھے،جس کی وجہ سے انھوں نے برتن دھونے میں کم وقت لگایا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…