اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

شہر یار آفریدی کی جانب سے مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان قومی اسمبلی میں شدید احتجاج،فضل الرحمان کے بیٹے نے کھری کھری سنا دیں

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کی جانب سے مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا گیا۔جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہاکہ نوجوانوں اور خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہے۔

شہریار آفریدی نے کہاکہ منشیات کی روک تھام سے آگہی کے لیے ’زندگی‘ کے نام سے ایپ لانچ کر دی ہے، تمام تعلیمی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی بات چیت ہو چکی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے معاشرے میں کافی حد تک منشیات داخل ہو چکی ہے، یہ ایک پارٹی یا حکومت کی بات نہیں اس کے خاتمے کے لیے والدین بھی حصہ لیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جائے گا۔شہریار آفریدی کے اس بیان پر ایم ایم اے کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا، ایک مدرسے کے نام پر تمام مدارس کو بدنام نہیں کرنے دیں گے۔مدرسے کا نام لینے پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا جس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ میں نے کسی مدرسے کا نام نہیں لیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سارے معاشرے میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں کہیں اچھے لوگ بھی نہیں ہوتے، مدارس نے جو کچھ کیا ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔شفقت محمود نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا معیار ایسا ہے کہ دنیا کے لوگ اپنے بچے یہاں بھیجتے ہیں لیکن جہاں جہاں کوئی برائی ہے ہم نے اس برائی کو برا کہنا ہے۔اسعد محمود نے کہا کہ آپ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام مدارس کوشک کی نگاہ سے نہیں دکھا سکتے۔

شہریار آفریدی نے غلط بیانی کی ہے، اس ایک مدرسے کو منظر عام پر لایا جائے۔انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار نے بھی ایک الزام لگایا تھا، چوہدری نثار نے کہا تھا کہ 98 فیصد مدارس اچھے ہیں لیکن 2 فیصد مدارس دہشت گردی سے منسلک ہیں، انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ دو فیصد مدارس کون سے ہیں۔جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ شہریار آفریدی نہیں دکھا سکتے کہ وہ کون شخص ہے، اس شخص کے حوالے سے وفاق المدراس سے رابطہ کیا جائے، ہم خود تحقیقات کر کے اس مدرسے کو منظر عام پر لائیں گے لیکن اس طرح کسی کا نام لے کر سارے مدارس کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…