جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

احسان اللہ احسان کے فرار کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا،معاملہ عدالت میں جا پہنچا، تہلکہ خیز انکشافات

datetime 9  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اے پی ایس سانحے میں شہید طالبعلم کے والد نے پشاور ہائی کورٹ میں ریاستی اداروں کیخلاف عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرنے کی درخواست کردی۔

نجی ٹی وی ڈان نیوز کے مطابق درخواست گزار ایڈووکیٹ فضل خان نے توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا کہ فریقین نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو مبینہ طور پر رہا کرنے کے منصوبے کے خلاف دائر کی گئی گزشتہ درخواست میں انہیں دیے گئے احکامات کی خلاف ورزی کی ہے۔ان کی درخواست میں سینئر حکومتی اور سیکیورٹی حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ان کے بڑے بیٹے صاحبزادہ عمر خان اے پی ایس کے ان 148 طالب علموں اور اساتذہ میں سے تھے جو 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت سے وہ صوبے کے سب سے تاریک دن میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ کسی اور بچے کے والدین کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹی ٹی پی نے حملے کے اگلے ہی روز اس کی ذمہ داری قبول کرلی تھی اور حملے کے تقریباً 3 سال بعد مرکزی ملزم احسان اللہ احسان نے گرفتاری دی یا انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جس کے بعد انہیں کچھ امید ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ ایجنسیوں نے احسان اللہ احسان کے حوالے سے تصویر پیش کی کہ انہیں کچھ معلوم نہیں تھا یا معصوم تھے یا ان کا برین واش کیا گیا تھا اور انہوں نے نادانستہ طور پر صوبے میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

فضل خان نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت پٹیشن دائر کی تھی جس پر فریقین نے بیان دیا تھا کہ دہشت گرد احسان اللہ احسان کا فوجی عدالت میں ٹرائل ہوگا اور ان پر رحم نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ احسان اللہ احسان کا ٹرائل کیے جانے کے بجائے انہیں عالیشان گھر دیا گیا تھا جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ کو احکامات جاری کیے کافی وقت گزر چکا ہے تاہم بدقسمتی سے فریقین نے اپنی نا اہلی سے احکامات پر عمل در آمد نہیں کیا جس کی وجہ سے یہ درخواست دائر کی گئی ۔خیال رہے کہ 6 فروری کو احسان اللہ احسان نے کا آڈیو پیغام سوشل میڈیا پر سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی حراست سے فرار ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…