اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کرونا وائرس تخلیق کیا گیا اور اب اسے بائیولوجیکل وار فیئر بنا دیا گیا ہے، سینیٹر رحمان ملک نے انکشاف کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت دنیا میں ایک اور بڑا خطرناک وائرس دستیاب ہے اسے وار پوائزن کہتے ہیں، اسرائیل تقریباً دو کلو وار پوائزن پیدا کرتا ہے یا یہ امریکہ کے پاس موجود ہے، وہ کیپسول کی صورت میں اگر کوئی بندہ نگل لے تو اس کو دل کا دورہ پڑتا ہے اوروہ مرجاتا ہے اور بچ ہی نہیں سکتا۔
رحمان ملک کا کہنا تھا کہ دوسری صورت میں اگر اس کیپسول کو توڑ کر کسی کمرے میں ڈال دیا جائے تو اس میں جتنے لوگ سانس لیں گے وہ سب بھی دل کا دورہ پڑنے سے مرجائیں گے اور اس کا پتہ بھی نہیں لگے گا اور یہی لگے گا کہ یہ دل کا دورہ پڑنے سے مر گئے۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میں نے اس وائرس کی شناخت اس وقت کی تھی جب شاہنواز بھٹو کو قتل کیا گیا تھا، شاہنواز بھٹو کو وار پوائزن سے مارا گیا تھا۔ میرے سامنے فرانسیسی پولیس نے یہ بلی کو کھلایاتھا اور جس طرح بلی کی موت واقع ہوئی یہی صورتحال اس وقت مرنے سے پہلے شاہنواز بھٹو کی تھی۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہاکہ میرا اندازہ ہے کہ کرونا وائرس انسان کا خود تخلیق کیا گیا اور اس کو مختلف جگہوں پر داخل کیا گیا اور یہ وہاں اتنی تیزی سے پھیلا۔ وزیر اعظم عمران خان نے جتنا وقت آئی جی سندھ کے حوالہ سے لگایا ہے اگر اتنا وقت کشمیر پر لگاتے تو شایدکشمیر کا مسئلہ حل ہو جاتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ بات مان بھی لی جائے کہ کرونا وائرس قدرتی طور پر چین میں پیدا ہوا تاہم اب اس کو بائیولوجیکل وار فیئر بنا دیا گیا ہے اور کو اس شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور میری پیشگوئی ہے کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان چین، چین کی عوام، چین کی ایکسپورٹ، چین کے کاروبار اور چین کی معیشت کو پہنچے گا۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ میرا اندازہ ہے کہ کرونا وائرس انسان کا خود تخلیق کیا گیا اور اس کو مختلف جگہوں پر داخل کیا گیا اور یہ وہاں اتنی تیزی سے پھیلا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ وائرس کس نے بنایا ہے تاہم یہ وائرس اس پوزیشن میں ہے کہ اس میں دنیا کو جزوی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس نے پورے چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت چین کو کرونا وائرس کا آئیکون بنایا جا رہا ہے اور اگر کوئی چینی باہر نظر آئے گا تو لوگ اس سے ہاتھ ملانے سے گریز کریں گے، پاکستان اور چین کو مل کر اس وائرس کو کنٹرول کرنا چاہئے اور پاکستانی ڈاکٹروں کی ٹیمیں محفوظ راستے سے چین جانی چاہئیں جو ان کی مدد کریں
اور دونوں ملک مل کر اس وائرس کی تفتیش کریں کہ یہ کہاں سے آیا اور اس وقت اس کی موجودگی کہاں، کہاں ہے اور مل کر دیکھیں کہ اس کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ اگر بائیولوجیکل وار فیئر شروع ہو گئی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ففتھ جنریشن سے نکل کر سکستھ جنریشن میں چلی جائے گی، یعنی اب بم استعمال نہیں ہوں گے بلکہ اپنی جیب یا بریف کیس میں پانچ، سات سرنجیں لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں بائیولوجیکل اور کیمیکل وارفیئر اور پھر اس کی جدید صورتحال سامنے آ گئی، اس کو روکنا چاہئے اور میری تو تجویز ہے اس پر قانون بنانا چاہئے کہ وائرس کا پیدا کرنا، وائرس کو آگے پھیلانا اس کی کسی ملک کو اجازت نہیں ہونی چاہئے، اس کو جنگی جرائم میں شامل کرکے اقوام متحدہ اس پر اپنا فیصلہ دے اور سارے ملک اس پر عملدرآمد کریں۔



















































