منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعظم کی جانب سے گرانفروشوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی ضلعی انتظامیہ نے مکمل چپ سادھ کر عوام کو گرانفروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

datetime 28  جنوری‬‮  2020 |

راولپنڈی (آن لائن)وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے گرانفروشوں کے خلاف کاروائی کی یقین دہانی اور اعلان کے باوجود راولپنڈی ضلعی انتظامیہ نے مکمل چپ سادھ کر عوام کو گرانفروشوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس سے فروٹ سبزی اور دالوں سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںخودساختہ طور پر اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑ دی پرائس کنٹرول کمیٹیوں اور مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ ملی

بھگت سے سبزی و پھل فروشوں نے سرکاری نرخوں سے3گنا قیمتیں وصول کرنا شروع کر دیں جبکہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں نے اپنی کاروائیاںشہر و چھائونی کے مضافاتی پسماندہ علاقوں تک محدود کر کر دیں۔ اس وقت مارکیٹ میں درجہ اول و دوم کنوں 30روپے سے90روپے فی درجن کی بجائے 150سے200روپے فی درجن فروخت ہو رہا ہے ، انار 150سے220روپے کی سرکاری قیمت کی بجائے 400سے450روپے فی کلو گرام تک پہنچ چکا ہے سفید سیب 85سے90روپے کی بجائے150روپے فی کلو گرام ،امرود38سے44روپے کی بجائے 100سے120روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے اسی طرح آلو 24 سے36روپے کی بجائے80سے100روپے فی کلو گرام ،پیاز 36سے48روپے کی بجائے 100سے120روپے فی کلو گرام ٹماٹر 56سے60روپے کی بجائے80سے100روپے فی کلو گرام گاجر26سے30کی بجائے50سے60روپے فی کلو گرام اور ٹینڈا50سے60کی بجائے100روپے فی کلو گرام تک فروخت ہو رہا ہے اس وقت مارکیٹ میں مختلف اقسام کی دالیں180سے260روپے فی کلو کے ریٹ پر فروخت رہی ہیں اس ضمن میں شہریوں کا کہنا ہے کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ انتظامیہ جو ریٹ درجہ اول کی اشیا کا جاری کرتی ہے پرچون فروش اس سے 3گنا قیمت پر درجہ دوم اور سوم کی اشیا فروخت کرتے ہیں جب کسی دکاندار سے شکوہ کیا جائے تو برملا اظہار کرتے ہیں انتظامیہ بند کمروں میں قیمتوں کا تعین کرتی ہے جبکہ منڈیوں میں صورتحال یکسر مختلف ہے پھر ہم نے کارپوریشن ، مارکیٹ کمیٹی اور ضلعی انتظامیہ کے ا ہلکاروں کو بھی راضی رکھنا ہے ان حالات میں دکونوں کے کرائے اور بجلی کے بل پورے کرنا مشکل ہے تو پرچون فروش کہاں جائے ۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…