جمعرات‬‮ ، 26 فروری‬‮ 2026 

مانسہرہ کے مدرسے میں 120 بچے زیر تعلیم، ملزم قاری شمس الدین سرکاری سکول ٹیچر بھی ہے اور باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے، بچے کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ۔۔ڈی آئی جی ہزارہ نے کیس میں مفتی کفایت اللہ کا کردار بے نقاب کردیا

datetime 27  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)ڈی آئی جی ہزارہ پولیس نے مانسہرہ زیادتی کیس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے۔سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے تحفظ اطفال کا سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے تدارک پر بات چیت کی گئی۔

ارکان نے کہا کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات صرف مدرسوں تک محدود نہیں۔ سینیٹر ثمینہ سعید نے تجویز دی کہ بچوں سے ذیادتی کے ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں۔جاوید عباسی نے کہا کہ ان واقعات میں 80 فی صد فیملی ،اساتذہ اور جاننے والے لوگ ملوث ہوتے ہیں،لوگ عزت کی خاطر چپ کر جاتے ہیں، بچوں کے تحفظ کے حوالے سے موجودہ قوانین کا جائزہ لیا جائے اور جامع رپورٹ تیار کر کے سینیٹ میں پیش کی جائے۔روبینہ خالد نے کہا کہ غریب والدین کو پیسے دے کر صلح کر لی جاتی ہے، زیادتی کے بعد بچے کی موت ہو جاتی ہے تو پولیس اورلوگ اصل واقعہ کودبا دیتے ہیں، بچوں سے زیادتی کے خلاف قوانین بنانے کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کو ساتھ رکھا جائے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے مانسہرہ واقعہ پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لڑکوں سے زیادتی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، ایبٹ آباد میں گزشتہ سال 252 بچوں سے زیادتی کے کیسز رجسٹرڈ ہوئے، مانسہرہ کے مدرسے میں 120 بچے پڑھ رہے تھے، ملزم قاری شمس الدین سرکاری اسکول ٹیچر بھی ہے اور باقاعدہ تنخواہ لیتا ہے، بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ قید کر کے مارا بھی گیا، بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے۔

مدرسے کو بند کر دیا گیا ہے اور منتظم کو گرفتار کر رہے ہیں۔ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہم نے غیر رجسٹرڈ مدارس کے ہاسٹلز کو ختم کرنے کا کہہ دیا ہے، ہزارہ بار ایسوسی ایشن نے ملزم کا کیس نہ لڑنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے، جے یو آئی (ف) کا رہنما مفتی کفایت اللہ ملزم کو سپورٹ کرتا رہا ہے، مفتی کفایت نے الیکٹرونک میڈیا پر پریس کانفرنس کی اور اس کا جو کردار رہا وہ میڈیا کے سامنے نہیں بتا سکتے۔پولیس بریفنگ کے دوران ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 2018 میں خیبر پختون خوا میں بچوں سے زیادتی کے 143 کیسز، اسلام آباد میں 130، بلوچستان میں 98 اور سندھ میں 1016 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، خیبرپختونخوا میں 2019 میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا، بچوں سے زیادتی کرنے والے لوگ زیادہ تر بچوں کو جاننے والے ہی ہوتے ہیں، جاننے والے، پڑوسی اور دکاندار بچوں کو زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…