اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دنیا میں جنگوں، مسلح تنازعات اور ظلم و ستم کے نتیجے میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونے والے افراد کی تعداد 2014 میں قریباً چھ کروڑ تک پہنچ گئی جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین، یو این ایچ سی آر کے مطابق اس تعداد میں 2013 کے مقابلے میں 83 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔اس ریکارڈ تعداد کی بڑی وجہ شام میں جاری خانہ جنگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔یو این ایچ سی آر کے سربراہ انتونیو گترز نے برطانوی نشرےاتی ادارے سے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا ایک خراب جگہ بن چکی ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’اگر لوگ سمجھتے ہیں کہ امدادی ادارے اس کی صفائی کے قابل ہیں تو اب یہ ممکن نہیں رہا۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہم اس کام سے عہدہ برا ہو سکیں۔‘انتونیو گترز نے کہا کہ ’متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے اور بدقسمتی سے ان میں سے متعدد کے پاس خود کو سنبھالنے کے وسائل نہیں۔‘شام میں گذشتہ سال دسمبر تک 39 لاکھ پناہ گزین اور 76 لاکھ اندرونِ ملک نقل مکانی کرنے والے افراد تھے۔انھوں نے بتایا کہ سنہ 2014 میں پناہ گزینوں کی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے 42 ہزار افراد کا اضافہ ہوا جبکہ 2013 میں یہ تعداد 32 ہزار روزانہ تھی۔رپورٹ کے مطابق 2014 کے آخر تک ان افراد کی تعداد پانچ کروڑ 95 لاکھ تک پہنچ چکی تھی جن میں سے نصف سے زیادہ بچے تھے۔ان میں ایک کروڑ 95 لاکھ مہاجرین اور تین کروڑ 82 لاکھ اندرون ملک دربدر ہونے والوں کے علاوہ 18 لاکھ وہ لوگ بھی تھے جو غیر ممالک میں پناہ کی درخواستوں پر فیصلوں کے منتظر تھے۔صرف ایک ملک شام میں گذشتہ سال دسمبر تک 39 لاکھ پناہ گزین اور 76 لاکھ اندرونِ ملک نقل مکانی کرنے والے افراد تھے۔رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کے مطابق دنیا میں ہر 122واں شخص یا تو مہاجر یا دورنِ ملک دربدر ہے یا پھر اس سے کسی غیر ملک میں پناہ کی درخواست دی ہوئی ہے۔یورپ اس وقت افریقی ممالک سے بحیرہ روم کے راستے پناہ گزینوں کی آمد کے بحران کا شکار ہے اس رپورٹ میں براعظم یورپ میں اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور افراد کی تعداد میں 50 فیصد اضافے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ تعداد 67 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔اس اضافے کی وجہ افریقی ممالک سے بحیرہ روم کے راستے پناہ گزینوں کی یورپ آمد کو قرار دیا گیا ہے۔یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ یورپ میں پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں جرمنی میں دائر کی گئیں جبکہ سویڈن اس فہرست میں دوسرے نمبر پر رہا۔خیال رہے کہ بدھ کو ہی عالمی امن سے متعلق ایک سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ برس تشدد، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے دنیا کی ایک فیصد آبادی یا تو پناہ گزین ہے یا پھر اندرون ملک در بدر ہے اور یہ سنہ 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی سطح ہے۔
دنیا میں پناہ گزینوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)
-
دنیا کے طاقتور اور کمزور پاسپورٹس کی فہرست جاری، سنگاپور کا پہلا نمبر، پاکستان کی حیرت انگیز پوزیشن
-
اٹلی کے اسٹڈی ویزے کے لئے کتنا بینک اسٹیٹمنٹ ہونا چاہیے؟ خواہشمند طلبا کے لیے بڑی خبر
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
دوست کے گھر سے نیم برہنہ حالت میں ٹھیکیدار کے 26 سالہ بیٹے کی نعش برآمد
-
چودھری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی میں شمولیت کی خبروں پر بول پڑے
-
جمائمہ کے ’دوسرے شوہر کیمرون ‘کون ہیں؟ دونوں کی ملاقات کیسےہوئی؟ اہم تفصیلات منظرعام پر
-
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں زلزلے کے شدید جھٹکے
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری آگئی
-
سعودی عرب کا حج عازمین کے لیے عمر کی پابندی فوری طور پر نافذ کرنے کا اعلان
-
راولپنڈی،خاتون سے زیادتی کرنے اور نومولود بچی کو اغوا کرنے والا ہوٹل منیجر گرفتار، بچی بازیاب
-
پٹرول پمپ کے قریب رہنے والے بچوں میں کینسر کا خطرہ: تحقیق میں انکشاف
-
امریکہ میں بھارتی طلبہ کا بڑی تعداد میں کیریئر متاثر ہونے کا خدشہ
-
آئندہ 24گھنٹوں میں ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور ژالہ باری کا امکان،این ڈی ایم اے...



















































