جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

اوباما ایران کیلئے کیا کام بڑھ چڑھ کر کرتے رہے؟ سنگین الزمات لگا دیئے گئے

datetime 10  جنوری‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی نائب صدر مائیک پنس نے سابق صدر بارک اوباما کی انتظامیہ پر ایران کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ سابق صدر نے ایرانی دہشت گردانہ پالیسی کو نظرانداز کیا اور ایران کی جھولی میں اربوں ڈالر کی رقم ڈالی گئی۔عرب ٹی وی کے مطابق

امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ سابق صدر نے ایران کے ساتھ نام نہاد جوہری معاہدہ کیا اور اس معاہدے سے ایران نے خوب فائدہ اٹھایا۔ایران کو اس کے بیرون ملک منجمد اربوں ڈالر مل گئے۔ٹویٹرپر پوسٹ کی گئی ایک ٹویٹ میں امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ طے پایا جوہری سمجھوتا ختم اور پاسداران انقلاب کی ‘قدس’ فورس کے سربراہ کمانڈر قاسم سلیمانی کو قتل کرکے بہت اچھا کیا۔ سابق صدر کی پالیسی ایران نوازی پرمبنی تھی۔ انہوں نے ایرانی دہشت گردوں کو اربوں ڈالر کی رقم سے نوازا۔مائیک پنس نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتے طے پائے معاہدے کو منسوخ کیا اور ایک ایسے شخص کو جس کے ہاتھ امریکیوں کے خون سے رنگین تھے کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ سلیمانی اب نہیں رہا اور نہ ہی ایرانی دہشت گردوں کے لیے اب ڈالر ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…