جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

کیا قربِ قیامت ہے؟ الخلیل میں 50 یہودی کالونیاں، خوفناک اسرائیلی منصوبے کا انکشاف

datetime 2  جنوری‬‮  2020 |

الخلیل(این این آئی)فلسطین کے حوالے سے گذشتہ سال امریکا کی طرف سے جو اہم اعلانات کیے ان میں ایک اہم ترین اعلان فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق تھا۔ گذشتہ برس کے آخر میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو

نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری اور توسیع پسندی سے متعلق منصوبوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے فلسطین میں یہودی بستیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کردی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اب امریکا فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو غیرقانونی نہیں سمجھتا۔ مائیک پومپیو کے اعلان کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع نفتالی بینیٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے وسط میں الجملہ بازار میں ایک یہودی کالونی کے قیام کا اعلان کیا جس کا مقصد یہودی آباد کاری کو فلسطین کے اس تاریخی شہر کے اندر تک لانا تھا۔الخلیل میں یہودی کالونی کے قیام کا مقصد اس تاریخی شہر میں یہودی آباد کاری کی راہ ہموار کرنا اور پہلے سے قائم یہودی کالونیوں کو تحفظ اور دوام فراہم کرنا تھا۔ اس وقت الخلیل شہر میں صہیونی ریاست نے 50 کالونیاں قائم کر رکھی ہیں جن کی آڑ میں فلسطینیوں کی قیمتی اراضی غصب کی گئی ہے۔ الخلیل میں نہ صرف یہودی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں بلکہ ان میں دنیا بھر سے جمع کرکے فلسطین لائے گئے 3 ہزار یہودی بھی بسائے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…