جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

بنگال میں متنازع شہریت قانون میری لاش پر سے گزر کر ہی نافذ ہوگا، مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بینرجی نے مودی سرکارکیخلاف علم بغاوت بلند کر دیا ، دوٹوک اعلان

datetime 17  دسمبر‬‮  2019 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے متنازع شہریت قانون کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران کہا ہے کہ ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی نافذ ہوگا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کولکتہ میں احتجاجی مارچ کے دوران ممتا بینرجی نے

وفاق کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر وفاقی حکومت میں ہمت ہے تو ان کی حکومت ختم کردے لیکن ان کی ریاست میں یہ قانون ان کی لاش پر سے گزر کر ہی لاگو ہوگا۔احتجاجی مارچ کے دوران ممتا بینرجی کی جماعت کے سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنان نے متنازع قانون کے خلاف پوسٹرز اور جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں ریاست میں شہریت قانون اور این آر سی پر عملدرآمد نہیں ہونے دوں گی، آپ چاہیں تو میری حکومت ختم کردیں یا مجھے جیل میں ڈال دیں لیکن میں اس کالے قانون پر کبھی عملدرآمد نہیں کروں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم اس قانون کے خاتمے تک جمہوری طریقے سے احتجاج جاری رکھیں گے، اگر وہ بنگال میں اس قانون پر عملدرآمد چاہتے ہیں تو انہیں یہ میری لاش پر سے گزر کر کرنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے سوچا تھا کہ ممتا تنہا ہے لیکن اب ہمارے ساتھ بہت لوگ ہیں، اگر آپ کا مقصد صحیح ہو تو لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ممتا بینرجی نے کہا کہ یہ کوئی مذہب کی بنیاد پر لڑائی نہیں ہے، بلکہ جو ٹھیک ہے اس کے لیے لڑائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…