اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بڑے ہسپتالوں میں  مفت علاج معالجہ کی تمام سہولیات ختم تبدیلی   کا   اعلان  صرف نعروں کی حد تک محدود ہوگیا

datetime 1  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعظم عمران خان کے صحت  کے شعبہ  تبدیلی لانے  کے  اعلان کو  انکے  مشیر  برائے قومی  صحت نے صرف نعروں کی حد تک محدود کر دیا ہے،پمز اور پولی کلینک میں غریب مریضوں کو مفت علاج معالجہ کی تمام سہولیات ختم کردی ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی  بیت المال کو بجٹ فراہم کرنے میں ناکامی  کے باعث ہزاروں کی تعداد میں  غریب مریضوں کے مہنگے ترین  امراض  کے مفت علاج  میں امداد کا سلسلہ  بھی رک   گیا ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف  کی   مفت علاج معالجے کے نام پر قائم تبدیلی سرکار  کے دور میں    وزیراعظم ہاؤس کے قریب وفاق کے دو بڑے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں مشیر وزیر صحت غریب شہریوں کو صرف فیتہ کاٹنے تک ہی محدود کر دیا ہے جبکہ پولی کلینک میں لوکل پرچیز پر دوائیاں صرف بیوروکریسی اور پارلیمنٹیرین کو فراہم کی جارہی ہے،غریب مریض ٹیکس دینے کے باوجود مہنگی دوائی کی مفت سہولت سے محروم کردئے گئے ہیں۔دوسری جانب پمز میں دل اور کینسر کے مریضوں کو بیت المال کے ذریعے سے مفت علاج معالجہ فراہم  ہونے کی سہولت کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔لاکھوں روپے سے کئے جانے والے علاج والے مریض جب پمز سے بیت المال کا فارم بھر کر بیت المال جاتے ہیں تو ادارہ بجٹ نہ ہونے کے باعث چیک جاری نہیں کرواسکتا۔پمز میں مفت دوائیوں اور ایل پی پر بھی دوائیاں فراہم نہیں  کی جارہی ہیں جبکہ قومی خزانے سے مفت دل کے سٹنٹس فراہم کرنے کی سہولت بھی ختم کردی گئی ہے جو کہ قومی خزانے سے3کروڑ روپے کی خریدی گئی تھی لیکن ابھی فراہم نہیں کی جارہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…