اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

کتنے فیصد خواتین اپنے شوہروں پر اعتبار کرتی ہیں اور کتنے فیصد بالکل بھی نہیں؟جدیدتحقیق میں دلچسپ انکشافات

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)ازدواجی رشتے میں اعتماد بہت اہمیت رکھتا ہے۔لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں ایسے بہت سے جوڑے ہیں جو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔حال ہی میں ایک برطانوی مارکیٹ ریسرچ کمپنی ون پول کی جانب سے سروے کیا گیا۔ماہرین نے سروے کے دوران 18سے65سال کی عمر کے1000شادی شدہ جوڑوں کا انٹرویو کیا۔سروے رپورٹ کے مطابق ہر 10میں 1فیصد خواتین اپنے شوہروں پر بالکل اعتماد نہیں کرتیں۔

علا وہ ازیں باقی9فیصد بھی گاہے بگاہے اپنے شوہروں کے سوشل میڈیا اکانٹس چیک کرتی رہتی ہیں کہ وہ ان کی غیر موجودگی میں کس سے اور کیا باتیں کرتے ہیں۔تاہم دوسری جانب صرف 3فیصد مرد اپنی بیویوں کے سوشل میڈیا اکا?نٹ چیک کرتے ہیں اور 5فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیویوں پر اعتماد نہیں کرتے۔2013 ء  میں سی این این کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر3میں سے1خاتون کا کہنا تھا کہ وہ چوری چوری اپنے شوہر کا فون چیک کرتی ہیں۔مذکورہ بالا رپورٹس کی روشنی میں ایک بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ شادی شدہ زندگی بسر کرنے والے بیشتر جوڑے آپس میں عدم اعتماد کا شکار ہیں جو درست نہیں ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جوڑوں کا آپس میں ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنا اور چوری چھپے ایک دوسرے کے فونز اور دیگراکانٹس کو چیک کرنا مستقبل قریب میں انکی ازدواجی زندگی کیلئے خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے۔شادی سے متعلقہ معاملات کے ماہر ٹم لاٹ کی دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کامیاب شادی شدہ زندگی کیلئے جوڑوں کا ایک دوسرے سے بات کرنا اور ایک دوسرے پر اعتماد کرنا بے حد ضروری ہے۔لاٹ کا کہنا ہے کہ آپ کو اپنی ازدواجی زندگی کی کامیابی کیلئے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے، اگر آپکا یا آپکی شریک سفر ایک بار آپکا اعتبار توڑ دے تو دوسری مرتبہ کریں اگر پھر توڑ دے تو آپ دوبارہ کریں اور تب تک جاری رکھیں جب تک آپ اسے برداشت کر سکیں۔تاہم انکا مزید کہنا ہے کہ کبھی کبھار شریک سفر کی بے وفائی اور برے رویے کو بھلانا یا اسے معاف کرنا قطعی آسان نہیں ہوتا۔لیکن اس کے باوجود انکا کہنا ہے کہ اپنے رشتے کو ٹوٹنے سے بچانے کیلئے جہاں تک ممکن ہو سکے ایک دوسرے کا اعتماد بحال کرنے کی کو شش جاری رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…