اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

نیب میں شاید ہمت نہیں حکومتی اراکین کی کرپشن پر سوال اٹھائے،اسفند یار ولی خان بی آر ٹی منصوبے پر کھل کر بول پڑے

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی جانب سے بی آر ٹی کی کرپشن، لاگت کی زیادتی اور منصوبے میں تاخیر بارے سپریم کورٹ پر ذمہ داری ڈالنا مضحکہ خیز ہے، اگر سپریم کورٹ نے اس منصوبے پر حکم امتناعی جاری کیا ہے تو یہ نیب اور اس کے چیئرمین کی ناکامی ہے کیونکہ حکم امتناعی تب ہی جاری ہوتا ہے جب دلائل کمزور ہوں۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی سربراہ نے چیئرمین نیب کی گذشتہ روز بی آر ٹی کے حوالے سے

منطق کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے صوبے اور بالخصوص پشاورکے عوام کے ساتھ مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیب صرف الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن اراکین کو گرفتار کرسکتی ہے لیکن ان میں شاید ہمت نہیں کہ حکومتی اراکین کی جانب سے اس نام نہاد میگاپراجیکٹ میں کی گئی کرپشن پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا نام لانے سے چیئرمین نیب خود کو بری الذمہ قرار دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ موجودہ حکومت میں بیٹھے کئی وزراء کہہ چکے ہیں کہ یہ منصوبہ عجلت میں شروع کیا گیا جس کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، یہی وجہ ہے کہ نہ صرف لاگت میں 100فیصد سے زائد اضافہ ہوچکا ہے بلکہ پشاور کے عوام کے لئے درد سر بن چکا ہے۔ اسفندیارولی خان نے کہا کہ ہم آج یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام جاری ہے جس میں صرف اپوزیشن اراکین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آج تک جتنے لوگ گرفتار ہوچکے ہیں ان پر ایک پیسہ کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی لیکن چیئرمین نیب کسی کو خوش کرنے کیلئے صرف اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس طرح یکطرفہ انتقامی کارروائیاں جاری رہیں تو ملک کو مزید عدم استحکام کی جانب لے جائیگا جس کی ساری ذمہ داری عمران خان اور چیئرمین نیب پر آئیگی۔ اسفندیارولی خان کا کہنا تھا کہ اگر بی آر ٹی بارے سپریم کورٹ حکم امتناعی جاری کرچکی ہے تو اس کو ختم کرنے کی ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ کیا ایک عام شخص سپریم کورٹ جا کر بی آر ٹی میں کی گئی کرپشن کے ثبوت دیں گے یا احتساب کے نام پر بنے ادارے کا فرض بنتا ہے کہ وہ تحقیقات میں سامنے آنیوالی کرپشن کو عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چیئرمین نیب بی آر ٹی منصوبے میں کی گئی کرپشن کو عوام کے سامنے لائیتاکہ نام نہاد ’بلا امتیاز احتساب‘ کے دعوے کرنیوالوں کی حقیقت عوام پر بھی ظاہر ہو اور اگر نیب ان ثبوتوں کو اکھٹا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے تو چیئرمین نیب کو اس کرسی پر براجمان ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…