بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

حراستی مراکز اور ان میں موجود قیدیوں کی فہرستیں کل تک فراہم کریں، چیف جسٹس پاکستان نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 13  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان نے فاٹا میں موجود حراستی مراکز اور ان کی موجود قیدیوں کی فہرست جمعرات تک فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ شفافیت کیلئے یہ بینچ تشکیل دیا جس میں 5 سینئر ترین جج ہیں، میں نے تجویز کیا تھا کہ ایک آئینی بینچ ہو جو صرف آئینی معاملات دیکھے،اعتراض پرعلیحدگی کا فیصلہ جج نے خود کرنا ہوتا ہے،

یہ طے شدہ قانون ہے، ہمیں علم ہے کہ فاضل جج صاحب نے لارجر بینچ میں آپ کو نام سے فریق بنایا ہے، یہ انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے،کوئی قیدی کم نہ ہوجائے،اگر تو یہ حراست قانونی ثابت ہوئی تو آپ جانیں اور قیدی،اگر حراست غیر قانونی ہوئی تو معاملے کا فیصلہ عدلیہ کرے گی،یہ شہریوں کی آئینی آزادی کا معاملہ ہے،اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے،یہ بتائیں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے آنے والی فوج کن اختیار کے تحت کام کرتی ہے،کیا کسی کو حراست میں رکھنے کا حکم صوبائی انتظامیہ کے علاوہ آرمی کا کوئی افسر بھی دے سکتا ہے؟کسی کو حراست میں رکھنے کی مدت زیادہ سے زیادہ 24 گھنٹے ہے،24 گھنٹے کے بعد قیدی کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے،دہشتگردی کے کیسز میں یہ مدت 3 ماہ ہے،اس معاملے میں صوبائی اختیارات کے ساتھ عدالتی اختیارات بھی شامل ہیں،سول انتظامیہ کی مدد کیلئے آنے والی فوج سول انتظامیہ کے اختیارات سلب نہیں کرسکتی،کل تک تمام قیدیوں کی تفصیلی معلومات فراہم کی جائے،انہوں نے اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج بلائے جانے کے قوانین کے حوالے سے تیاری کر کے آئیں،دوران سماعت اتارنک جنرل آف پاکستان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خانئے نے کہا کہ جج نے کہا کہ اٹارنی جنرل نالائق ہے،

معزز جج کی حکومت سے متعلق ایک فکس رائے ہے،ایک فاضل جج کو اس بینچ میں نہیں بیٹھنا چاہیے،جج نے فیڈریشن، صدر، وزیراعظم اور میرے بارے میں ایک مقدمے میں الزامات عائد کیے،جج میرے، وفاق، وزیراعظم اور صدر سے تعصب رکھتے ہیں،فیڈریشن موجودہ کیس میں پارٹی ہے،ئیسول حکومت کی مدد، آرٹیکل 265 کے تحت فوج کو یہ اتھارٹی فیڈریشن نے دی ہے، میں اس عدالت کے سامنے خود کو مطمئن محسوس نہیں کررہا ہوں،مجھے جج پر اعتراض کا حق ہے اور میں وہ حق استعمال کرونگا۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی جو کل ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…