بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اردن کی پوری کابینہ وزارتوں اور محکموں میں ردوبدل اور انضمام سے قبل مستعفی

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

عمان(این این آئی)اردن کی کابینہ وزارتوں اور محکموں میں ردوبدل اور انضمام سے قبل مستعفی ہوگئی ہے۔اردنی وزیراعظم عمرالرزاز اقتصادی اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنی کابینہ میں رد وبدل کررہے ہیں۔ حکام نے کہاہے کہ اس طرح انھیں معاشی اصلاحات کے لیے درکار مینڈیٹ حاصل ہوجائے گا۔اردن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق ایک بیان میں جس میں انھوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں

درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کابینہ کا استعفا ضروری تھا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ کابینہ اور وزارتوں میں کیا کیا تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔البتہ ایک عہدہ دار کا کہناتھا کہ اس سے اہم قلم دانوں پر فرق نہیں پڑے گا بلکہ بعض وزارتوں کو ایک دوسرے میں ضم کردیا جائے گا تاکہ فالتو اخراجات پر قابو پایا جاسکے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے تجویز کردہ کفایت شعاری کے منصوبے کے تحت اردن کو اپنے اخراجات پر قابو پانا ہوگا تاکہ اس کے گردشی قرضے میں کمی لائی جاسکے۔اس وقت اردن کے اس قرضے کا حجم 40 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور یہ مجموعی قومی پیداوار کے 95 فی صد کے برابر ہے۔اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے 2018ء میں عمرالرزاز کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ تب ملک میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔ اردنی حکومت نے گردشی قرضوں پر قابو پانے کے لیے آئی ایم ایف کی تجویز پر محاصل کی شرح میں اضافہ کیا تھا۔عمرالرزاز وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے معیشت کی بحالی کے لیے اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تاکہ اردن پر عالمی اداروں کے اعتماد کو بحال کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…