جمعہ‬‮ ، 20 مارچ‬‮ 2026 

برطانیہ, چرچ نے نمازیوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیئے

datetime 11  جون‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک)لندن میں واقع ایک مسجد کی عمارت میں آتشزدگی کےحادثے کے بعد ایک مقامی چرچ نے نمازیوں کے اپنے دروازے کھول دئیے ہیں۔مشرقی لندن کا گرجا گھرسینٹ لیوک بدھ کو اذان کی آواز سے گونج اٹھا جہاں سینکڑوں مسلمانوں نے باجماعت نماز کا فریضہ انجام دیا۔آتشزدگی کا واقعہ کنگسٹن مسجد میں منگل کی رات پیش آیا،جس کے نتیجے میں مسجد کی عمارت کا کچھ اندرونی حصہ اور چھت جل کر تباہ ہو گئی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ کنگسٹن مسجد فی الحال آتشزدگی کےاس واقعہ کے بعد نمازیوں کےلیے بند ہے، لیکن مسجد سے قریبی واقع چرچ سینٹ لیوک نے چرچ کے ایک حصے میں نمازیوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے۔کنگسٹن اپون ٹیمز’ کے مقامی اخبار کے مطابق پادری مارٹن ہسلوپ نے کہا کہ “ہمیں مسلمان کمیونٹی کی پانچ وقت کی نمازوں کی ادائیگی کے انتظامات کرتے ہوئےخوشی محسوس ہو رہی ہے ،ہم ان کی ضروریات کا پورا خیال رکھ رہے ہیں”۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم نمازیوں کی ہر طرح سے مدد کرنا چاہتے ہیں اور نماز جمعہ کی ادائیگی کے حوالے سے بھی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں، لیکن نماز جمعہ کے لیے شاید چرچ کا ہال چھوٹا پڑ سکتا ہےجس میں توقع ہےکہ تقریبا ایک ہزار نمازی شریک ہوتے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ جتنا ہم سے ہو سکتا ہے وہ ہم کر رہے ہیں جیسا کہ پڑوسی کرتے ہیں۔اس سے قبل رواں برس اپریل میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی اور یگانگت کے مظاہرہ کے لیے کرتےچرچ میں نماز پڑھنےکی اجازت دی گئی تھی۔کہا جاتا ہے کہ یہ شایدچرچ آف انگلینڈ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب ‘سینٹ جان ‘چرچ کی عمارت میں نمازیوں کا اتنا بڑا اجتماع منعقد کیا گیا۔کنگسٹن مسجد کے ایک ٹرسٹی فیصل ہنجرا نے بتایا کہ ہم نے گذشتہ رات عشاءکی نماز اور صبح فجر کی نماز کی ادائیگی چرچ میں کی ہے ہم ان کی مہمان نوازی کے لیے شکر گزار ہیں۔انھوں نے بتایا کہ یہ ایک عارضی مقام ہے، ہم نمازیوں کے لیے مستقل مقام حاصل کرنےکی کوشش کر رہے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے مستقل مقام کا انتظام کر لیا جائے گا۔جس وقت مسجد میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا ،مسجد میں سو سے زائد بچے قرآن کے درس کی کلاسوں میں تھے،جنھیں فوری طور پرعمارت سےباہر نکال لیا گیا۔میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے واقعہ کو مشکوک قرار نہیں دیا گیا ہے۔کنگسٹن مسجد کا قیام 1979 میں ہوا تھا ،جب یہ مسجد برٹن روڈ کی ایک عمارت میں قائم کی گئی تھی جس کے بعد 1985 میں نزدیکی ایسٹ روڈ پر ایک باضابطہ مسجد کی تعمیر کی گئی۔ اس مسجد میں لگ بھگ آٹھ سو نمازیوں کی گنجائش ہے۔ یہاں خواتین اور بچوں کے لیے خصوصی انتطامات ہیں، اس کے علاوہ مسجد مسلمان کمیونٹی کو مختلف خدمات اور سہولیات کی بھی پیشکش کر تی ہے۔ اخبار کے مطابق کنگسٹن کے علاقے میں چھ ہزار سے زائد مسلمان آباد ہیں اور ان میں سے بہت سے نمازی پندرہ میل کا فاصلہ طے کر کے اس مسجد میں نماز کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں ایسےمیں چرچ کا نمازیوں کے لیے اپنے دروازے کھولنا ایک اچھا ہمسایہ ہونے کوظاہرکرتاہے ۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…