بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

شام میں ترکی کی فوج کشی خطے کی سلامتی کے لیے تباہ کن ہے : مصر، اردن

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

قاہرہ(این این آئی)مصر اور اردن نے شام میں کرد فورسز کے خلاف ترکی کی طرف سے کی گئی فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے تباہ کن قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے مصر کا دورہ کیا۔

جہاں انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی۔اس موقعے پر بات کرتے ہوئے مصری صدر السیسی نے کہا کہ وہ شمال مشرقی شام میں ترک فوجی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اس کارروائی سے پورے خطے کے امن اور استحکام پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم جو اس وقت قاہرہ کا دورہ کررہے ہیں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ترکی کی جارحیت سے پورے خطے میں استحکام اور سلامتی متاثر ہوئی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت اس کارروائی کا کوئی جواز نہیں۔ شام میں ترک فوک کشی شام کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قرارداد 2254 پر عمل درآمد پر زورع دیا۔مصری ایوان صدر کے ترجمان بسام ارضی نیکہا کہ صدر السیسی اور اردنی فرما کے درمیان بات چیت میں خطے کی تازہ ترین پیشرفت ، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نمائوں نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق اور مطالبات کی حمایت کی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ چار جون 1967ء کے مقبوضہ عرب علاقوں پرمشتمل فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کے دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔اس موقع پر اردنی فرمانروا نے ترکی پر زور دیا کہ وہ شام میں فوج کشی کے بجائے مسئلہ بات چیت کے ذریعے حل کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…