بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان سے بھارت گئے ہندوؤں کوشدید مشکلات کا سامنا‘‘ پاکستان میں ہمارے بچوں کی زیادہ اچھی پرورش ہوتی تھی لیکن یہاں آکر ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جانے لگا ؟ مندر جانے پر کیا کیا جاتا ہے؟پاکستانی ہندوؤں کا موقف

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی ہندوئوں کیساتھ بھارت میں ناروا سلوک ، بھارتی معاشرہ انہیں قبول نہیں کرتا ، جسکے بعد وہ پاکستان واپس آنے کیلئے کوششیں کرتے ہیں۔رزنامہ 92کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ انکشاف موقر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سے جانیوالے ہندوؤں کو

معاشرتی دھارے میں شامل کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جاتے ۔ پاکستانی ہندو کمار نے بتایا کہ میرے کچھ عزیز اور ہمسائے بھارت گئے تھے اور وہ دو تین سالوں بعد ہی واپس آگئے ، وہ بہت مایوس تھے کیونکہ انہیں وہاں تسلیم ہی نہیں کیا گیا۔ بھاگ چند بھیل نے بتایا کہ میں 2014 میں بھارت گیا، مجھے جودھ پور میں ایک کیمپ میں رکھا گیا،مجھے میری ذات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا، مندر میں جانے کی اجازت نہیں تھی، میرے دوست نے ایک کنویں سے پانی پیا تو برہمنوں نے اس پر کنویں کو ناپاک کرنے کا الزام لگا کر وحشیانہ تشدد کیا۔ بھیل نے مزید کہا بعض دفعہ آپ جوش میں کوئی فیصلہ کر بیٹھتے ہیں لیکن پھر آپ کو پتا چلتا ہے کہ حقیقت کتنی مختلف ہے ۔شاید یہ فیصلہ میرے لئے بہترین نہیں تھا لیکن شاید میرے بچے کبھی کہہ سکیں کہ ہمارے باپ نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔جودھ پور کے مہاجرین کیمپ میں رہنے والے پاکستانی ہندوؤں کو کہنا ہے کہ پاکستان میں انکے بچوں کی زیادہ اچھی پرورش ہوتی تھی لیکن یہاں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…