منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

نیا ورلڈ ٹریڈ سنٹر موسم بہار میں سیاحوں کیلئے کھول دیا جائیگا

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نیویارک۔۔۔۔۔ نئے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو موسم بہار میں سیاحوں کیلئے کھول دیا جائیگا۔ چار ارب ڈالرز کی لاگت سے دوبارہ تعمیر ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے پہلے ٹاور کا باضابطہ افتتاحی عنقریب کیا جائیگا تاہم ابتدائی طور پر دفاتر میں کام شروع کر دیا گیا ہے جن میں زیادہ تر سرکاری اداروں کے دفاتر ہیں جبکہ پرانے کرایہ داروں کی بڑی تعداد بھی منتقل ہو رہی ہے۔ نیویارک میں مقیم غیر ملکی میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے تعمیراتی فورم کے حکام نے بتایا کہ 16 ایکڑ رقبے پر بننے والے پہلے ٹاور پر تقریباً تین ارب نوے کروڑ ڈالر لاگت آئی ہے۔ نائن الیون کے 13 سال بعد نوتعمیر شدہ ٹاور کی 104 منزلیں ہوں گی جن کے تین فلور سیاحوں کیلئے مختص ہوں گے جنہیں آئندہ سال کے موسم بہار میں عوام کیلئے کھول دیا جائیگا۔ 61ویں منزل پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تین نومبر کو نئے کرایہ دار بلڈنگ میں شفٹ ہو گئے ہیں۔ پہلے کرایہ دار کا تعلق ایک پبلشنگ ادارے سے ہے جن کے 2300 ملازمین نے کام شروع کر دیا ہے۔ امریکہ کے آزادی کے ڈیکلریشن کی مناسبت سے اس کی بلندی 1776 فٹ رکھی گئی ہے۔ آبزرویشن ڈیک کی تعداد تین ہوگی جبکہ بلڈنگ کو ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ چاروں طرف کے مناظر واضح دکھائی دیتے ہیں۔ بلڈنگ کے ایک طرف مجسم آزادی دریائے ہڈسن جبکہ شمال کی طرف ایمپائر سٹیٹ کی بلڈنگ دکھائی دیتی ہے۔ مشرق کی جانب بروکلن برج کا علاقہ دیدہ زیب مناظر پیش کرتا ہے۔ نائن الیون کے نتیجے میں تباہ ہونے والے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز کی تعمیر کا دوبارہ آغاز 2006ء4 میں کیا گیا تھا۔ اس میں 45 ہزار ٹن سریا اور دو لاکھ مربع گز کنکریٹ استعمال کی گئی ہے۔ نئے ٹاور میں نائن الیون میوزیم کے علاوہ اس میں مرنے والوں کی یادگار بھی تعمیر کی گئی ہے۔ ایک ٹرانسپورٹ حب بھی بنایا گیا ہے جبکہ ون ورلڈ سنٹر کے نیچے نیب مریسی اور نیویارک کو ملانے والی پاتھ ٹرین کی دوبارہ تعمیر بھی مکمل ہو گئی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…