بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

لندن، کشمیر ریلی میں بھارتی سفارت خانے کو نقصان پہنچانے کی کوشش، پاکستانی اور بھارتی شہری لڑ پڑے،متعدد گرفتاریوں کی تصدیق کردی گئی

datetime 5  ستمبر‬‮  2019 |

لندن(این این آئی) برطانوی دارالحکومت میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر مقبوضہ کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاج کے سلسلے میں دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لندن کے میئر کے ترجمان نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میئر پرامن اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے کی حمایت کرتے ہیں،

انہوں نے لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے باہر ایک چھوٹے سے طبقے کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیز اور غیر قانونی سرگرمی کی مذمت کی۔میئر کی جانب سے یہ بیان مودی مخالف مارچ کے ایک روز بعد دیا گیا جس میں پاکستان اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے افراد نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے خلاف مذمتی نعرے لگائے تھے۔مذکورہ احتجاج کا انتظام جموں اینڈ کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) نے کیا تھا، میئر لندن نے احتجاج کے دوران بھارتی ہائی کمیشن کی عمارت کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات کی مذمت کی۔اس حوالے سے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بھارتی مشن نے کہا تھا کہ ’پرتشدد‘ احتجاج میں ہائی کمیشن کو نقصان پہنچایا گیا۔جس کے جواب میں میئر لندن صادق خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں اس ناقابلِ قبول رویے کی مذمت کرتا ہوں اور کارروائی کے لیے یہ معاملہ میٹرو پولیٹن پولیس کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے۔اس کے ساتھ بھارتی ہائی کمیشن نے ایک تصویر بھی شیئر کی تھی جس میں ایک شیشہ چٹخا ہوا اور کھڑکی بظاہر انڈوں سے آلودہ نظر آرہی تھی۔احتجاج کے بعد میٹرو پولیٹن پولیس نے بتایا تھا کہ پاکستانیوں اور بھارتیوں کے مابین جھڑپ کے نتیجے میں 4 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…