بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کو قبرستان بنا دیا،عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی بھی بدترین ذہنی اذیت میں مبتلا ، امریکی اخبارکے اہم انکشافات

datetime 3  ستمبر‬‮  2019 |

سری نگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں تقریبا ایک ماہ سے نافذ کرفیو اور بدترین پابندیوں نے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنادی، قابض فوج نے بھارت نواز اسیر سابق وزرائے اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو بھی بدترین ذہنی اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

ساتھ ہی حریت رہنماوں کے پر انسانیت سوز تشدد کیا جا رہا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے مسلسل 29 روز ہوگئے تاحال موبائل، انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی نظام بند ہیں اور اسکول ویران پڑے ہیں۔ قابض فورسز نے کشمیریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔بھارتی اخبار دا ہندو کے مطابق سابق وزیراعلی عمر عبداللہ کے اہل خانہ جب ان سے ملنے گئے تو انہیں پہچاننے میں مشکل ہوئی، وہ کافی لاغر اور کمزور دکھائی دے رہے تھے اور انہیں صبح صرف ایک گھنٹہ باہر آنے کی اجازت دی جاتی ہے، اسی طرح محبوبہ مفتی بھی ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور اہل خانہ سے رابطہ نہیں کر پارہی ہیں۔تقریبا مہینہ ہونے کو آرہا ہے اور کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں جس کے باعث غذائی بحران نے سر اٹھا لیا ہے، زندگی بچانے والی ادویات کی بھی شدید قلت ہے۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے مقبوضہ کشمیر کے اسپتالوں کو قبرستان میں بدل دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…