بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

مودی نے بھارت کی سیکولر حیثیت کو شدید خطرات سے دو چار کردیا، امریکی رکنِ کانگریس اینڈی لیون پھٹ پڑے

datetime 31  اگست‬‮  2019 |

واشنگٹن( آن لائن) امریکی رکنِ کانگریس کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 ختم کرکے بھارت کی سیکیولر حیثیت کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس اینڈی لیون نے ایک مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ

سال 2005 میں بش انتظامیہ نے گجرات میں 2002 میں ہونے والے مسلم کش فسادات نہ روکنے پر نریندر مودی کے امریکا داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظیم نے کشمیر کے حوالے سے جاری کی گئیں اپنے 2 رپورٹس میں بھارتی حکومت کو بآور کروایا تھا کہ کشمیر میں اس کی ترجیح شہری آزادی کا تحفظ ہونا چاہیے۔اسی طرح دوسری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وادی کشمیر میں ایک ماہ کے عرصے سے جاری محاصرے میں بنیادی آزادی کی خلاف ورزی، ضروری خدمات متاثر اور معیشت کو نقصان پہنچا ہے۔اسی قسم کی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا تھا کہ جموں کشمیر میں تمام سیاسی رہنماں کو فوری طور پر رہا اور جان بوجھ کر وادی میں اٹھنے والی آوازوں کو خاموش کروانے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔واشنگٹن میں قائم سینٹر برائے اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کا کہنا تھا کہ موودی اپنے آپ کو علاقائی طاقتور شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس طاقتور شخصیت کے اردگرد ہندو قوم پرستوں کی حمایت بھی دکھانا چاہتے ہیں۔دوسری جانب واشنگٹن میں سفارت کاروں نے اس بات کی جانب بھی نشاندہی کی کہ جہاں پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے وہیں اس احتجاج کا مرکز مذہبی مراکز یا تنظیمیں نہیں ہیں۔

ان کی رائے میں کشمیرکی حمایت میں نکالی جانے والی ریلیوں اور جلسوں سے پاکستان کی مذہبی جماعتیں غیر حاضر ہیں۔ایک مغربی سفارت کار کا اس بارے میں کہنا تھا کہ اس احتجاج کے دورانِ نہ تو کوئی مذہبی بیان بازی ہوئی نہ جہاد کی کال دی گئی اور نہ ہی اسلحے کی نمائش کی گئی۔دوسرے سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان انتہا پسندوں کو قابو میں رکھنے کے وعدے کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں پڑوسی ممالک کے خلاف پرتشدد سرگرمیوں کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…