بدھ‬‮ ، 12 اگست‬‮ 2026 

بھارتی مظالم حد سے بڑھ گئے، مودی سرکار کو للکارنے والی بہادر کشمیری بیٹی گرفتار کر لی گئی

datetime 22  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کے مظالم حد سے بڑھ گئے، کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبایا جا رہا ہے، بھارتی فورسز نے جموں کشمیر موومنٹ کی جنرل سیکرٹری شہلا رشید کو گرفتار کر لیا، ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے مودی سرکار کو ان کے گھر جا کر للکارا تھا، یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جموں کشمیر موومنٹ کی جنرل سیکرٹری اور سماجی کارکن شہلا رشید نے مقبوضہ کشمیر کی اندرونی کہانی بیان کرتے ہوئے

بھارتی مظالم کو آشکار کیا تھا اور کہا تھا کہ سری نگر سمیت وادی میں کرفیولگا ہواہے، کسی کو نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی اکائی جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں کرفیو اور پابندیوں کا سلسلہ چوتھے ہفتے میں داخل ہو گیا ہے اور اگر عالمی برادری نے اس المناک صورتحا ل پر اپنی مجرمانہ خاموشی برقرار رکھی تو علاقے میں ایک بہت بڑا انسانی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت رہنما اور جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے جموں میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے مقبوضہ وادی کی پوری آبادی کے علاوہ جموں خطے کی چناب ولی اور پیر پنجال خطے میں بسنے والے لوگوں کو مسلسل سخت کرفیو کے حصار میں رکھا ہے اور ذرائع مواصلات کی بندش کے باعث محکوم کشمیر ی عوام کا اس وقت بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اپنے عزیز و اقربا ء کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور انہیں بنیادی اشیائے ضروریہ کی بھی سخت قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انکی پریشانی میں دن بہ اضافہ ہو رہا ہے۔ میر شاہد سلیم نے کہ یہ انتہائی بدقسمی ہے کہ بھارت کی فرقہ پرست حکومت نے جموں وکشمیر کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کیا اورمسلمان اکثریتی علاقوں کو کرفیو، پابندیوں، ذرائع مواصلات کی بندش اور جبر و استبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر زیر عتاب لایا۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کوچاہیے کہ وہ اپنی خاموشی توڑ کر نہتے کشمیریوں پر ہونے والے اس ظلم و ستم کا موثر نوٹس لے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…