منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کے اعلان کے جواب میں روہنگیا پناہ گزینوں کا واپس لوٹنے سے انکار

datetime 21  اگست‬‮  2019 |

ڈھاکہ (این این آئی) بنگلہ دیش کی جانب سے 21 اگست کو روہنگیا مسلمان پناہ گزینوں کو واپسی میانمار بھیجنے کے اعلان کے رد عمل میں پناہ گزینوں نے وطن لوٹنے سے انکار کردیا۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بنگلہ دیش کے پناہ گزین کمشنر عبدالکلام نے بتایا کہ واپسی کے

عمل کے لیے ایک ہزار 56 خاندانوں میں سے صرف 21 خاندانوں کو منتخب کیا گیا جو حکام کو اس بات کا انٹرویو دینے کے لیے تیار ہیں کہ آیا وہ میانمار لوٹنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تمام خاندانوں کا کہنا تھا کہ وہ واپس نہیں جانا چاہتے جبکہ بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ جہاں 10 لاکھ روہنگیا پناہ لیے ہوئے، زندگی معمول کے مطابق جاری و ساری ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ماضی جیسی افراتفری نہیں یے، وہ حکام کے پاس گئے اور کھل کر بات کی جو بہت مثبت بات ہے اب وہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس ایک دن کا وقت ہے، امید ہے کہ مزید کئی خاندان انٹرویو میں شرکت کریں گے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے ترجمان نے ایک ای میل میں بتایا کہ دوسرا انٹرویو ان پناہ گزینوں کے ساتھ کیا جائے گا جنہوں نے سروے میں واپس لوٹنے پر آمادگی کا اظہار کیا تھا۔اس سلسلے میں انٹرویو دینے والے کچھ روہنگیا پناہ گزینوں کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک میانمار انہیں شہریت نہ دے دے۔دوسری جانب کئی نسلوں سے میانمار میں مقیم ہونے کے باوجود حکام نے انہیں شہریت دینے سے انکار کردیا ہے اور انہیں بنگالی کہنے پر ہی بضد ہیں۔البتہ میانمار نے اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ 3 ہزار 450 افراد پر مشتمل منتخب خاندان میانمار میں فوجی حملوں کے بعد بنگلہ دیش آئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…