منگل‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2026 

اسد رجیم ادلب میں مشروط جنگ بندی پر تیار،عملدرآمد شروع ،روس کا خیرمقدم

datetime 2  اگست‬‮  2019 |

نیویارک /ماسکو/دمشق(این این آئی)شامی حکومت نے شمال مغربی علاقے ادلب میں مشروط جنگ بندی پرآمادی کا اظہار کیا ہے اورکہاہے کہ ادلب کو اسلحہ سے خالی علاقہ قرار دینے کی روسی اور ترک تجویز کے بعد سرکاری فوج جنگ بندی کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب روس نے شامی حکومت کی طرف سے ادلب میں جنگ بندی پرعمل درآمد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ادھر ایک دوسری پیش رفت میں

سلامتی کونسل کے 10 رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس پر ادلب گورنری میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے اسد رجیم کے جرائم کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کامطالبہ کیا ہے۔شام کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی اور روس نے ادلب کو اسلحہ سے خالی علاقہ قرار دینے کا ایک معاہدہ کیا ہے اور شامی حکومت کو بھی اس حوالے سے مطلع کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب آستانا میں شام میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ایک مصدقہ عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا گیاکہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے ادلب میں جنگ بندی پرعمل درآمد شروع کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے جنگ بندی کی تجویز اس شرط پرقبول کی ہے کہ ادلب میں موجود جنگجو بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار ترک کرنے کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے وضع کردہ علاقے سے 20 کلو میٹراندر چلے جائیں گے۔دوسری جانب روس نے شامی حکومت کی طرف سے ادلب میں جنگ بندی پرعمل درآمد کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔شام کے لیے روس کے خصوصی ایلچی الیکذنڈر لافرنٹییو نے قزاقستان کے درالحکومت میں ایک بیان میں کہا کہ ادلب میں شامی حکومت کی طرف سے جنگ بندی پرآمادی قابل تعریف اقدام ہے۔خیال رہے کہ ترکی اور روس نے گذشتہ برس ستمبر میں ادلب میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خطرات ٹالنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا مگر اس پرعمل درآمد نہیں کیا جاسکا۔ادھر ایک دوسری پیش رفت میں سلامتی کونسل کے 10 رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس پر ادلب گورنری میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے اسد رجیم کے جرائم کی آزادانہ تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کرنے کامطالبہ کیا

ہے۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعدادو شمار کے مطابق رواں سال اپریل سے شمال مغربی شام میں جاری لڑائی کے دوران 500 عام شہری جاں بحق اور چار لاکھ 40 ہزار نقل مکانی پرمجبور ہوگئے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنیوالی تنظیم آبزرویٹری کے مطابق تین ماہ کے دوران ادلب اور اس کے مضافات میں اسد رجیم اور روسی فوج نے 65 ہزار فضائی اور زمینی حملے کئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا


پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…