منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں شریک لوگوں کا جوش و خروش قابل دید،کتنے افراد شریک ہوئے؟خبرر ساں ادارے نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 25  جولائی  2019 |

کراچی (این این آئی) متحدہ اپوزیشن کے جلسے میں شریک لوگوں کا جوش و خروش قابل دید تھا۔ جلسہ کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز نماز مغرب کے بعد ہوا،اس موقع پرباغ جناح کے وسیع و عریض میدان میں تیار کیاگیا پنڈال کھچا کھچ بھر چکا تھا اورخواتین انکلوژر زمیں کرسیاں کم پڑ گئیں۔جلسہ شروع ہوجانے کے باوجود شہر بھر سے مختلف سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کی آمد کا سلسلہ بھی مسلسل جاری رہا،منتظمین کے مطابق جلسہ گاہ میں لگائی گئی 45 ہزار کرسیاں شرکا کے لیے کم پڑ گئیں۔

نشستیں کم پڑجانے کے باعث پنڈال کے اطراف لوگوں کی بڑی تعداد نے کھڑے ہو کر جلسے کی کارروائی دیکھی۔جلسہ گاہ میں اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور بلاول بھٹو کے قدآور پینا فلیکس لگائے گئے تھے اور مختلف مقامات پر نصب چھوٹی اسکیرینزپرجلسہ کی کارروائی دکھائی گئی۔ جلسہ گاہ میں آویزاں بینرز پر” احتساب کے نام پر سیاسی انتقام نامنظور “، “نیب گردی نامنظور” “سلیکٹیڈ وزیراعظم معاشی دہشت گردی نامنظور، خوش آمدید بلاول بھٹو” اور دیگر نعرے تحریرتھے۔جلسہ گاہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا حصہ اسٹیج،دوسرا خواتین انکلوژر اور تیسرے حصے میں مرد اور نوجوان کارکنان کی نشستیں مختص کی گئی تھی۔جلسہ کے اطراف علاقوں کو بھی پیپلز پارٹی اوردیگراپوزیشن جماعتوں کے پرچموں اور بینرز سے سجایا گیا۔ جلسہ گاہ میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات پرتین ہزار سے زائد پولیس اہلکارتعینات کئے گئے تھے۔جلسہ گاہ کے اطراف رینجرکے علاوہ 100 سے زائد پولیس اہلکار خواتین بھی تعینات تھیں، مرکزی اسٹیج کی سکیورٹی ایس ایس یوکمانڈوزاورپیپلزپارٹی کے جیالوں کے سپرد تھی۔ جلسہ گاہ میں داخلے کے لیے 6 انٹری گیٹ بنائے گئے، جہاں واک تھرو گیٹ نصب تھے۔جلسہ گاہ میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی، پیپلز پارٹی کی خواتین کارکنان نے پارٹی کے پرچم کے رنگ پر مشتمل کیپ اور دوپٹے سروں پر لے رکھے تھے۔جیالوں اور جیالیوں کے ہاتھوں میں بلاول بھٹو زرداری کی تصاویر اور پارٹی پرچم بھی تھے۔خواتین،بچوں اورنوجوانوں نے پارٹی پرچم کی مناسبت سے چہروں پر فیس پینٹنگ کرا رکھی تھیں،جلسہ گاہ کے شرکا کا جوش قابل دید رہا۔جلسے کے موقع پر پیپلز چورنگی پر پی پی کی جانب سے ایک بڑا استقبالیہ کیمپ قائم کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…