منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

کرپٹ افراد کے گرد گھیرا مزید تنگ،گھر، دفتر یا کسی دوسری عمارت میں موجود الماریوں کی تلاشی کی اجازت،بینکوں کے لاکر بھی کھلوائے جا سکیں گے،کھلبلی مچ گئی

datetime 25  جولائی  2019 |

کراچی(این این آئی) منی لانڈرنگ قوانین کے تحت ایس ای سی پی ہیرے جواہرات سے بھری تجوریاں بھی چیک کرے گا۔ گھر، دفتر یا کسی دوسری عمارت میں موجود الماریوں اور دراز میں پڑے طلائی زیورات، سونا اورڈالرسمیت دیگر قیمتی اثاثوں کی تلاشی بھی لی جاسکتی ہے جب کہ رولز میں ترمیم کے بعد بینکوں کے لاکر بھی کھلوائے جا سکیں گے۔

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو ایس آر 713 کے تحت کسی بھی عمارت، جگہ یا گاڑی میں موجود قیمتی اشیا تک رسائی کا اختیار دے دیا گیا ہے،مذکورہ ایس آر او کے ذریعے سرچ اینڈ سیزر  رولز 2019 بنائے گئے ہیں، جس کے تحت متعلقہ افسر ضرورت پڑنے پر اشیاء کا معائنہ کر سکتا ہے جب کہ ان اشیاء کا مالک اپنے قیمتی اثاثہ جات تک رسائی کیلئے انویسٹی گیشن آفیسر کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا، بصورت دیگر سرچ اینڈ سیزر کے رولز 6 کے تحت مجاز افسر کو تجوری، لاکر، دراز یا الماری کو توڑ کر کسی بھی چیز کو ضبط کر کے مزید کارروائی کرنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے، رول نمبر5 کے تحت کمیشن عمارتوں اور جگہوں کی جبری تلاشی بھی لے سکتا ہے، رولز نمبر 3 کے تحت مقامی پولیس کی مدد بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔اس حوالے سے پاکستان ٹیکس بار کے سینئر نائب صدر زاہد عتیق نے کہاکہ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے تناظر میں نئے قوانین ملک کی ضرورت ہیں، تاہم افسروں کو دیے گئے محکمانہ اختیارات کے استعمال میں احتیاط لازم ہونی چاہیے۔  منی لانڈرنگ قوانین کے تحت ایس ای سی پی ہیرے جواہرات سے بھری تجوریاں بھی چیک کرے گا۔ گھر، دفتر یا کسی دوسری عمارت میں موجود الماریوں اور دراز میں پڑے طلائی زیورات، سونا اورڈالرسمیت دیگر قیمتی اثاثوں کی تلاشی بھی لی جاسکتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…