منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

اخوان المسلمون قضیہ فلسطین کا سودا کرنا چاہتی تھی،فلسطینی حکام کا دعویٰ

datetime 21  جولائی  2019 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے عرب دنیا کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون پرقضیہ فلسطین اور فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق ومطالبات کی سودے بازی کی سازش کا الزام عاید کیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فلسطینی وزیر برائے اطلاعات نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی فلسطینیوں کو

جزیرہ سیناء میں آباد کرنے کے حامی تھے اور انہوں نے یہ تجویز فلسطینی صدر کے سامنے بھی پیش کی تھی۔فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اور ان کی ٹیم کی طرف سے پہلے بھی اخوان المسلمون پر قضیہ فلسطین کے سودے بازی کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 2013ء کو فلسطینی صدر محمود عباس نے اس وقت کے مصری ہم منصب محمد مرسی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صدر مرسی نے فلسطینیوں کو جزیرہ سیناء میں آباد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔فلسطینی حکام کا کہنا تھا کہ مصری صدر کی جزیرہ سیناء میں فلسطینیوں کی آباد کاری کی تجویز دراصل اسرائیل کے پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش تھی جو غزہ کے علاقے کو جزیرہ نماسیناء میں توسیع دینے کی بات کرتا آ رہا ہے۔ مصری صدر نے جزیرہ سیناء کا 40 کلومیٹر کا علاہ فلسطینیوںکی آبادی کاری کے لیے دینے کی تجویز پیش کی تھی۔حال ہی میں فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اخوان پرقضیہ فلسطین کو فروخت کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ صدر عباس کا کہنا تھا کہ اخوان فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال کرجزیرہ سیناء اور وسطی قاہرہ میں شبرا میں آ باد کرنا چاہتی تھی۔اخوان المسلمون پر قضیہ فلسطین کی آڑ میں فلسطینیوں سے ہمدردی کا جذبہ رکھنے والے لوگوں سے بھاری مقدار میں رقوم حاصل کی تھیں۔ اخوان کے حوالے سے رقوم حاصل کرنے کا ثبوت جماعت کے ایک تاسیسی رکن محمود عبدالحلیم کی کتاب سے بھی ملتا ہے جس میں انہوںنے لکھا تھا کہ اخوان نے نہ صرف جماعت کے ارکان بلکہ عام مسلمانوں سے فلسطینیوں کی مدد کی آڑ میں بڑی بڑی رقوم جمع کی تھیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کھے دور حکومت میں یہ کام ریاستی سرپرستی میں ہوتا رہا۔ فلسطینیوں کینام پرجمع کی گئی رقوم اخوان اپنے جماعتی اور سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی اور فلسطینیوں کو اس رقم کا عشر عشیربھی نہیں دیا جاتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…