منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

ایران نے افغان میڈیا کو کس طرح اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ؟

datetime 20  جولائی  2019 |

تہران (این این آئی)گذشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان میں ذرائع ابلاغ کی تعداد میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ افغان حکومت اس امر کو ملک کے مفاد میں کامیابی شمار کرتی ہے۔ تاہم ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے کس طرح سے افغان میڈیا کی خود مختاری کو سلب کیا اور اسے اپنی پالیسیوں کے پروپیگنڈے کے واسطے استعمال کیا۔

رپورٹ نے افغان سیکورٹی کے قومی محکمے کے ترجمان لطف اللہ مشعل کے سابقہ بیانات کے حوالے سے بتایا کہ دو ٹی وی چینلز ایرانی نظام کے ساتھ مربوط ہیں۔ مشعل نے باور کرایا کہ نور چینل کے سیاسی پروگرام واضح طور پر ایران کے حق میں جانب دار نظر آتے ہیں۔ چینل کا مقصد افغان عوام کو امریکی افواج کے خلاف اْکسانا اور افغانستان میں ایرانی پالیسیوں کو سپورٹ کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق تمدّن چینل کے زیادہ تر موضوعات، تجزیات، خبریں اور سیاسی پروگرام ایرانی نظام کے ذمے داران کی ہدایات پر مبنی ہوتے ہیں۔شیخ آصف محسنی تمدّن نیٹ ورک کا بانی شمار کیا جاتا ہے۔ ایران میں مذہبی ادارں میں تعلیم حاصل کرنے والی یہ شیعہ افغان شخصیت افغانستان میں ایرانی نظام کے اہم ترین افراد میں سے ہے۔ محسنی نے تمدّن چینل کے قیام کے علاوہ دینی مدرسہ بھی بنایا۔ یہ ایرانی سپورٹ کے ساتھ چلنے والا کابل کا ایک سب سے بڑا شیعہ تعلیمی مرکز ہے۔رپورٹ کے مطابق کابل میں واقع ٹی وی چینل کے تمام تر اخراجات ایرانی نظام برداشت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران اس نیٹ ورک کی پالیسیوں کا تعین کرتا ہے۔ اس چینل پر نشر ہونے والے کئی پروگرام اور فلمیں ایران میں تیار ہوتی ہیں۔اس چینل کے میزبان اور مہمان ایرانی لہجے میں فارسی بولتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پروگراموں کو براہ راست ایران سے نشر کیا جاتا ہے۔ دوسرے معنی میں اس چینل کے اور ایرانی ٹی وی چینلوں کے مواد میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…