منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مکہ آنے والے دس لاکھ عازمینِ حج کو سعودی حکومت نے کونسا بڑا تحفہ دیدیا ؟

datetime 18  جولائی  2019 |

جدہ (این این آئی)سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں اس مرتبہ جدہ کے شاہ عبدالعزیزبین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترنے والے عازمین حج میں سم کارڈز تقسیم کیے جارہے ہیں اور انھیں انٹرنیٹ کی مفت سہولت مہیا کی جارہی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی حکام نے بتایاکہ امسال حجاج کرام کی خدمت کے پروگرام کے تحت

ان میں دس لاکھ سمیں تقسیم کی جارہی ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے آبائی ممالک میں اپنے پیاروں سے رابطے میں رہیں اور انھیں اپنے روحانی تجربات اور حجاز مقدس میں اپنی مصروفیات سے آگاہ کرسکیں۔حج سیزن کے دوران میں فیلڈ ٹیمیں پورے چوبیس گھنٹے کام کریں گی اور وہ دنیا بھر سے آنے والے عازمین میں موبائل فون کی سمیں تقسیم کریں گی۔پاکستان اور دوسرے ممالک سے مکہ مکرمہ سے پہلے مدینہ منورہ کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے والے عازمینِ حج کو سعودی حکومت کے اس پروگرام کے تحت تو سمیں مہیا نہیں کی جارہی ہیں۔ البتہ وہ سعودی موبائل فون کمپنیوں کے ہوٹلوں کے باہر جگہ جگہ بنے بوتھ سے یہ سمیں مفت حاصل کرسکتے ہیں۔ان کی ٹیمیں ہوٹلوں کے چکر بھی لگاتی رہتی ہیں اور وہ معمول کی تصدیق کے بعد حجاج کرام کو سم کارڈ جاری کردیتی ہیں۔چار سعودی موبائل فون کمپنیوں موبائلی ، زین ، لیبارا اور ایس ٹی سی کے نوجوان کارندے الحرم النبوی الشریف کی جانے والی شاہراہوں پر جگہ جگہ موجود نظر آتے ہیں اور وہ پاسپورٹ نمبر کی بنیاد پرعازمینِ حج کو انگلیوں کے نشان لے کر سمیں جاری کردیتے ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…