بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

حامد میر کی ڈیلی میل کی وزیراعظم عمران خان سے متعلق خبر کا حوالہ دیکر ذاتی حملے کرنے کی کوشش،

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےسینئر صحافی حامد میر نے ڈیلی میل کی خبر شہبازشریف اورانکے داماد کی منی لانڈرنگ اور خردبرد کے بارے میں پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل سے سوال کیا فرض کریں اگر یہ خبر درست ہے تو ڈیلی میل نے وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان سے متعلق بھی ایک خبر چھاپی تھی اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟۔

جس پر شہباز گل نے حامد میر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی کی ذاتی زندگی پر حملہ کرنا آپ کو زیب نہیں دیتا ، آپ پاکستان کے ایک معتبر صحافی ہیں آپ کو شبہ نہیں دیتا کہ آپ اس طرح پروگرام میں کسی کی ذاتی زندگی پر سوالات کریں ۔ ترجمان پنجاب حکومت نے مزید کہا کہ اگر ڈیلی میل نے ن لیگ کے بارے میں ایسی کوئی خبر چھاپی ہوتی تو بھی میں اس پر تبصرہ بالکل نہ کرتا ۔ سب کی بیٹیاں ، مائیں ہمارے لیے قابل احترام ہیں ۔ حامد میر کے اس سوال پر سوشل میڈیا صارفین نے سینئر صحافی کی کھل کر کلاس لے لی ۔ ایک صارفین علی ملک نے لکھا ،شہباز گِل نے جو کر دیا ہے حامد میر کو ڈوب کے مر جانا چاہیے لیکن مرن اوہ جنہاں اچ غیرت ہوئے!!! یہ گھٹیا انسان اپنی اصل اوقات پر واپس آ رہا ہے، ویسے یہ بتانا ضروری ہے کے مریم صفدر کی گیراج والی اور چار ماہ والی خبر بھی اسی “معتبر” صحافی نے ماڈل ٹاؤن کی دیوار پھلانگ کر بریک کی تھی!ایک اور صارف ناصر کھوکھر نے لکھا کہ حامد میر اور عاصمہ شیرازی سے سوال ہے کہ اگر پاکستان میں صحافت پر پابندیاں ہوتیں تو کیا حامد میر اپنے شو میں موجودہ وزیر اعظم کی سابقہ اہلیہ کے خلاف قابل اعتراض خبر دکھا سکتا تھا؟ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ وقت آہستہ آہستہ پوری نااہل لیگ سمیت حامد میر جیسے مبینہ صحافیوں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک رہا ہے ۔ حامد میر کی اس بے غیرتی کے بعد پوری تحریک انصاف کو چاہئے کہ حامد میر کے شو کا بائیکاٹ کرے۔۔ اس کی ریٹنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…