اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

لنگور بھارتی صدر کی حفا ظت کریں گے

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی ۔۔۔۔بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوؤں کا ایک مقدس شہر متھرا ہے جہاں کے بندروں میں ایک عجیب شوق پایا جاتا ہے۔شہر کے بندر متھرا کی زیارت یا پوجا پاٹ کرنے کے لیے آنے والے افراد کے دھوپ سے بچنے والے چشموں کو چھین لیتے ہیں چاہے وہ عینک آنکھوں پر لگی ہو یا پھر جیب میں ہو۔ان بندروں کے اس رویے اور ان کی تعداد کو ذہن میں رکھتے ہوئے متھرا کی انتظامیہ نے بھارتی صدر پرنب مکھرجی کی حفاظت کے لیے 10 لنگوروں پر مشتمل ایک چھوٹی سی فوج تیار کی ہے۔صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جا رہے ہیں۔سنگِ بنیاد کی تقریب کے بعد وہ بان ے بہاری مندر بھی جائیں گے جہاں بندروں کی دہشت سب سے زیادہ ہے۔متھرا کی سینیئر پولیس افسر منزل سینی نے بتایا ہے کہ صدر پرنب مکھرجی کا قافلہ جس راستے سے بھی گزرے گا اس پر یہ لنگور پورا دن تعینات رہیں گے۔

صدر پرنب مکھرجی 16 نومبر کو ورنداون کے چندرودئے مندر کا سنگِ بنیاد کی تقریب کے لیے متھرا جائیں گے
منزل سینی کے مطابق بھگوان کرشن کی جنم بھومی ٹرسٹ سے فی لنگور ایک ہزار روپے یومیہ کے حساب سے کرائے پر لیے گئے ہیں۔
یہ رقم قومی دیہی روز گار منصوبے کے مطابق 125 روپے یومیہ ملنے والی مزدوری سے کئی گنا زیادہ ہے۔
کرشن جنم بھومی ٹرسٹ کے سیکریٹری کپل شرما نے بتایا ’ان کے پاس صرف دو لنگور ہیں جو صدر کی سیکورٹی انتظامات کے لیے تعینات ہیں۔ ٹرسٹ ان لنگوروں کے لیے 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے۔ باقی آٹھ لنگور کہیں دوسری جگہ سے لائے گئے ہیں۔‘
ورنداون چندرودئے مندر کے رابطہ عامہ اور وی آئی پی مہمانوں کی خدمات کے محکمے کے انچارج نوین کہتے ہیں کہ اس مندر میں بندروں کا اتنا خوف نہیں ہے۔ ہیلی پیڈ سے مندر بس چند قدم کے فاصلے پر ہے۔
صدر کی آمد سے پہلے ان کے پورے روٹ کو پولیس، این ایس جی کمانڈوز، ایس پی جی اور فوج کے حوالے کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…