بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

غربت اورمہنگائی سے تنگ آکرغریب محنت کش نے اپنےبچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کر دیا

datetime 8  جولائی  2019 |

سانگلہ ہل(آن لائن )سانگلہ ہل غربت کے ظالمانہ رنگ۔ سانگلہ ہل کے چالیس سالہ غریب محنت کش تین بچوں کے باپ اکبر علی نے غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اور فاقہ کشی کی نوبت آنے پر اپنے تین بچوں کو فروخت کرنے کا اعلان کردیا اس پر بڑی تعداد میں وہاں راہ گیر جمع ہوگئے محنت کش دکھی اکبرعلی کے اس اقدام پر راہ گیروں کی آنکھیں پرنم ہوگئیں اکبر علی کے معصوم بچے حیرت کی تصویر بن کر

لوگوں کو دیکھتے رہے سانگلہ ہل وارڈ نمبر4محلہ پرانا چہور کے رہائشی غریب محنت کش اکبر علی نے نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 17سال قبل میری شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے تین بچے عطاکئے بڑے بیٹے رضوان کی عمر13سال ہے جبکہ چھوٹا بیٹا اکرام 10سال کا ہے اور ایک بیٹی صبا جس کی عمر ساڑھے پانچ سال ہے اکبر علی نے زاروقطار روتے ہوئے بتایا میں نے اپنے بچوں کی پرورش کیلئے بہت زیادہ محنت مزدوری کی میرے دولت مند عزیزوں نے بھی میری کوئی مدد نہ کی، موجودہ مہنگائی کے دور میں میرے لیے بچوں کی پرورش اور گھر کی گزراوقات مشکل ہوچکی ہے اس پر میں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں (بچوں) کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیاہے اس دوران اکبر علی دھاڑیں مار کرر وتارہا اکبر علی نے مزید کہا کہ پاکستان میں آنے والے حکمرانوں نے غریبوں کی فلاح کیلئے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں اورر اپنے سالانہ بجٹ میں بھی غریبوں کے لئے کروڑوں روپے رکھے ہیں لیکن غریبوں کیلئے آج تک کوئی ٹھوص اقدامات نہیں کئے، ہر دور میں غریب ہی غربت کے ہاتھوں مرتارہا ہے موجودہ حکومت نے بھی مہنگائی کو آسمان تک پہنچا کر غریبوں سے جینے کا حق چھین لیاہے میری اپیل ہے کہ موجودہ غریبوں کی فلاح کی دعویٰ دار حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو غریب کی بحالی اور خوشحالی کے لئے عملی طور پر اقدامات اٹھانے چا ہییں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…