بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

 رانا ثناء اللہ کی دھمکی پر شریف برادران نے انہیں وزارت قانون پر بحال کیا،سانحہ ماڈل ٹاؤن کا حکم کس نے دیاتھا؟نجی محفل میں نام بتاچکے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 5  جولائی  2019 |

لاہور (آن لائن) پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا ہے کہ رانا ثنااللہ ماڈل ٹاون کے قتل عام کا حکم دینے والوں کانام بتا کر اپنے ضمیر کا بوجھ کم اور جرائم کی فہرست کو چھوٹا کریں۔ رانا ثنا اللہ نجی محفل میں سابق وزراء کے روبرو یہ انکشاف کہ چکے ہیں کہ شریف برادران نے مجھے قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی تو میں صاف صاف بتا دوں گا کہ مجھے سانحہ ماڈل ٹاون کا حکم نوازشریف اور شہباز شریف نے دیا تھا۔

جیسے ہی رانا ثنااللہ کی گفتگو شریف برادران تک پہنچی تو انھوں نے رزاق چیمہ کی جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے سے پہلے ہی معطل رانا ثنااللہ کو قانون کی وزارت پر بحال کر دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی سیکریٹریٹ ماڈل ٹاون میں پاکستان عوامی تحریک لاہور کے رہنماوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چوہدری افضل گجر، شفاقت مغل، میاں افتخار، خالد نعیم، طارق الطاف، حاجی عبدالخالق، اقبال چوہدری و دیگر بھی موجود تھے۔خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ سانحہ ماڈل کے ماسٹر مائنڈ نواز شریف اور شہباز شریف ہیں جبکہ عمل درآمد کروانے کی ڈیوٹی رانا ثنااللہ نے انجام دی۔ انھوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو بالاخر قانون اور عوام کی عدالت میں یہ اعتراف کرنا پڑے گا کہ سانحہ ماڈل ٹاون قتل عام کا منصوبہ جاتی امراء میں بنا۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر توقیر شاہ نے رابطہ کار کا فریضہ انجام دیا۔انہوں نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے ہونے کی تصاویر پبلک کروا کر عوامی ہمدریاں حاصل کرنے کا ڈھونگ کامیاب نہیں ہوگا۔ پنجاب کا بچہ بچہ رانا ثنا اللہ کو ان کے بھیانک مجرمانہ کردار کی وجہ سے اچھی طرح جانتا اور پہچانتاہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این ایف والوں نے بڑی اہم اور پتے کی بات کی ہے کہ رانا ثنااللہ ہیروئین برآمدگی کا مقدمہ اتنا کھلا اور واضح ہے کہ اس کیلئے ریمانڈ لینے کی ضرورت نہیں۔ جوڈیشل ریمانڈ ملزم کے لیے قانونی ریلیف ہوتا ہے حیرت ہے ملزم کے حواری اس ریلیف پر بھی چیخ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سانحہ ماڈل ٹاون کیس میں بھی غیر جانب دار انکوائری کر لی جائے تو صرف پندرہ دن کے اندر اندر ماڈل ٹاون کے سارے قاتل پھانسی گھاٹ تک پہنچ جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…