منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا کبھی کوئی مر جانے والا شخص بھی ایک دم ہوا ہے زندہ؟ مگر یہ معجزہ کیسے ہوا؟

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

وارسا: اگر زندگی کی سانسیں باقی ہوں تو مردہ قرار دیا جانے والا بھی زندگی کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ہوا پولینڈ میں ایک خاتون کےساتھ جسے اس کے فیملی ڈاکٹر نے مردہ قرار دے کر مردہ خانے بھیج دیا تاہم  کچھ دیر بعد اسے واپس زندہ دیکھ کر گھر والوں کی آنکھیں کھلی رہ گئیں۔

ہوا کچھ یوں کہ زندگی کی 91 بہاریں دیکھنے والی جانینا کولکووچ اچانک بے ہوش ہوگئیں اور انہیں فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے کافی دیر معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا اور گھر والوں سے کہا کہ انہیں مردہ خانے بھیج دیا جائے۔ جانینا کو مردہ خانے بھیج کر خاندان والوں نے ان کی تدفین کی تیاریاں اور انتظامات شروع کردیئے تاہم تقریباً 11 گھنٹے بعد مردہ خانے میں کام کرنے والے کارکنوں نے محسوس کیا کہ جانینا کے جسم پر پہنائے گئے بیگ میں حرکت ہو رہی ہے جس کے بعد انہوں نے بیگ کھول کر دیکھا تو ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ خاتون زندہ سلامت زندگی کی سانسیں لے رہی ہیں جس کے بعد فوراً بعد ان کے گھر فون کیا گیا جب کہ گھر والے بھی یہ خبر سن کر حیرت زدہ رہ گئے۔

جانینا کی بھتیجی کا کہنا تھا کہ جب انہیں مردہ خانے سے فون آیا تو وہ ان کے زندہ ہونے کی خبر سن کر حیران رہ گئے۔ جانینا کے ساتھ کیا ہوا وہ نہیں جانتی لیکن اب وہ صحت مند ہیں لیکن جب وہ مردہ خانے سے گھر پہنچیں تو انہوں نے سردی لگنے کی شکایت کی جس پر انہیں سوپ اور کیک پیش کیا گیا جو انہوں نے خوب مزے لے کر کھایا۔ جانینا کو موت کا پروانہ جاری کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال ان کی زندگی کی طرف لوٹ آنے پر کچھ نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ شدید صدمے میں ہیں کہ ایسا کیسے ممکن ہے۔

مردہ خانے کے ڈائریکٹر ہینریک کیمینچووچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے مردہ خانے میں گزشتہ 30 سال کے دوران کبھی ایسا واقعہ رونما ہوتے نہیں دیکھا، وہ نہیں جانتے یہ کیسے ہوا۔ جانینا کے ایک پڑوسی نے تو یہ تک کہہ دیا کہ یہ کسی معجزہ سے کم نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…