ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے حکومت کو توانائی بحران پر قابو پانے کی تجویز دیدی

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کی بدولت پاکستان کو ایٹمی و میزائل قوت بنایا اور اب میں نے رفاہی کاموں کی طرف بھرپور توجہ دے رہا ہوں او راس حوالے سے میرا سب سے بڑ ا منصوبہ ڈاکٹراے کیو خان ہسپتال ہے جو لاہور کے علاقے مولانا احمد علی روڈ مینار پاکستان کے عقب میں واقع ہے۔ حکومت کا صحت اور تعلیم کے شعبوں کے علاوہ بجلی بحران پر قابو پانے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔

حکومت کو توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے ایٹمی پروگرام کے طرف توجہ دینی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر قیصر رفیق کے زیراہتمام یوم تکبیر کے حوالے سے ایک تقریب سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہسپتال 2015ء سے کام کررہا ہے اور اب تک ہم نے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ مریضوں کا مفت علاج کرچکے ہیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ اب ہم تین سو بستروں پر مشتمل ہسپتال کی نئی عمارت تعمیر کررہے ہیں جس پر تیزی سے کام جاری ہے جو اکتوبر 2020ء میں باقاعدہ کام شروع کر دے گی جس میں ہر مرض کے ماہر ڈاکٹرز مستحق اور غریب مریضوں کو مفت طبی سہولیات فراہم کریں گے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پر عزم لہجے میں کہا کہ اتنا بڑا ہسپتال بنانا آسان کام نہیں تاہم تہیہ کر چکے ہیں کہ ہم یہ ہسپتال بنا کر ہی دم لیں گے۔ انہوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں آگے بڑھیں اورہمارا ساتھ دیں تاکہ ہم جلد سے جلد نادار اور مفلس مریضوں کوجلد از جلد جدید ترین طبی سہولیات فراہم کر سکیں۔اس سے قبل ہسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شوکت ورک نے اپنے خطاب میں کہا کہ صحت کا شعبہ حکومت کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہت خراب ہے اور ایک ایک بستر پر کئی مریض لیٹے ہوئے ہیں اور طبی سہولیات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کا شعبہ بھی حکومت کی توجہ چاہتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں

ملک میں موجود اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شکل میں موجود ہیں حکومت کو ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔انہوں نے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے حوالے سے کہا کہ ہسپتال قومی ہیروڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب ہے اور ہماری بہترین کوشش ہے کہ ہم غریب اور پسماندہ طبقہ کو معیاری اور طبی سہولیات فراہم کرکے اپنا معاشرتی کردار

بااحسن طریق ادا کر سکیں۔تقریب سے نیاز حسین لکھویرا نے بھی خطاب کیا جب کہ معروف شاعر ناصر بشیر نے منظوم خراج پیش کیا۔ تقریب میں نظامت کے فرائض اقبال حسین لکھویرانے انجام دئیے جبکہ اس باوقار تقریب میں دوسروں کے علاوہ میجر ریٹائرڈ طارق ورک، سہیل مغل، ڈائریکٹرعائشہ نذیر اورملک کے ممتاز دانشوروں، صحافیوں ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…