منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

فلسطینی قبلہ اول میں اپنی زیادہ سے زیادہ موجودگی اور حاضری کو یقینی بنائیں ، الشیخ عکرمہ صبری

datetime 24  مئی‬‮  2019 |

مقبوضہ بیت المقدس (این این آئی)مسجد اقصیٰ کے امام اور ممتاز عالم دین الشیخ عکرمہ صبری نے فلسطینی قوم پر زور دیا ہے کہ وہ قبلہ اول میں اپنی زیادہ سے زیادہ موجودگی اور حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ ماہ صیام کے دوران یہودی آباد کاروں اور غاصب صہیونیوں کی مجرمانہ سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ اطلاعات کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ فلسطینی ماہ صیام کیآخری عشرے میں قبلہ اول کیلئے رخت سفر باندھ لیں۔انہوں نے کہا کہ قبلہ اول کے دفاع کے دیگر ذرائع کے ساتھ فلسطینیوں کی زیادہ سے زیادہ

مسجد اقصیٰ میں موجودگی ضروری ہے۔ تاکہ قابض صہیونیوں کے خلاف سازشیں ناکام بنائی جا سکیں۔الشیخ عکرمہ صبری نے کہا کہ اعتکاف فلسطینیوںکا مذہبی فریضہ ہے ،صہیونی حکام طاقت کے استعمال سے مسجد اقصیٰ میں قیام اللیل کرنیوالے فلسطینیوں کو زبردستی مسجد سے باہر نکال رہے ہیں یہ مذہبی امور میں مداخلت اور مذہبی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔الصبری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب 500 نمازوں کے برابر ہے۔ سنت، فرض اور نوافل تمام نمازوں کا اجرت بہت زیادہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…