منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

حوثیوں کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ مار، عالمی ادارہ خوراک کا سخت انتباہ

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

جنیوا(این این آئی)عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے خبردار کیا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی ملیشیا کے ہاتھوں امدادی سامان کی لوٹ اور غبن کے بڑھتے واقعات کے باعث حوثیوں کے زیر تسلط علاقوں میں امدادی کارروائیاں بند ہونے کا اندیشہ ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق

عالمی ادارہ خوراک کی طرف سے جاری کردہ ایک مکتوب میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امداد دینے والے ممالک حوثیوں کے زیرقبضہ علاقوں میں امداد کی فراہمی کے حوالے سے مایوس ہیں۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے قبضے میں آنیوالے علاقوں میں امداد مستحق لوگوں تک نہیں پہنچ رہی ہے۔عالمی ادارہ خوراک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ پیزلی کی طرف سے حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے چیئرمین مھدی المشاط کو ارسال کردہ انتباہی مکتوب میں خبردارکیا گیا ہے کہ لوٹ مار کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھ سکتا۔امدادی پروگرام کے ترجمان نے جنیوا میںاے ایف پی کو بتایا کہ عالمی ادارے کی طرف سے حوثیوں کو گذشتہ برس دسمبر کیبعد اپنی نوعیت کا یہ دوسرا انتباہی مکتوب ہے۔مکتوب میں کہا گیا ہے کہ عالمی ادارہ خوراک کو امدادی سامان کی لوٹ مار اور مستحق شہریوںکو محروم رکھے جانے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ حوثیوں کیزیرقبضہ علاقوں میں امدادی سامان کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور غبن کی خبروںنے امدادی آپریشن کو متاثر کیا۔پیزلی کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتوں کے دوران حوثی جنگجوئوں کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوںکی وجہ سے بھی امدادی آپریشن آگے نہیں بڑھایا جاسکا۔عالمی ادارے کے مطابق اس وقت یمن میں جنگ کے باعث 33 لاکھ شہری بے گھر ہیں۔ یمن کے دو کروڑ 41 لاکھ افراد جو آبادی کا دو تہائی ہے کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…