پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مسجد حرام میں 24 آوازوں میں گونجنے والی صدائے اذان

datetime 17  مئی‬‮  2019 |

مکہ مکرمہ(این این آئی)مسجد حرام میں نمازوں اور عبادات کی دیگر اشکال کے ساتھ ساتھ اذان کو بھی خصوصی اہمیت اور اہتمام کا درجہ حاصل ہے۔ مسجد احرام میں گونجنے والی 24 مختلف صوتی آہنگ کی اذانیں دی جاتی ہیں۔مسجد حرام میں اذان کے لیے انجینیرنگ اور انتظامی نوعیت کی تیاریاںکی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے مقدس ترین مقام میں بلند ہونے والی اذانیں اہل ایمان کے دلوں اور

ایمان کو گرمانے کا ذریعہ ہیں۔عرب ٹی وی کے مطابق یاذان کے انتظامی امور کے لیے عالمی سطح کے تعلیم یافتہ 140 ماہرین تعینات ہیں۔ مسجد حرام کے اندرونی مقامات میں اذان کی آواز پہنچانے کے لیے 7 ہزار اسپیکروں کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مسجد کے میناروں میں لگے لائوڈ اسپیکروں کی بلند ہونے والی اذان اور اقامت کی آواز بھی ان اندرونی اسپیکروں کے ذریعے نمازیوں تک پہنچتی ہے۔حرم مکی کے اندر اذان اور اقامت کی آواز صاف سنائی دینے کے لیے خصوصی تکنیکی انتظامات کییگئے جن کی وجہ سے ہزاروں اسپیکروں کے باوجود صدائے اذان میں کسی قسم کا خلل پیدا نہیں ہوتا۔مسجد حرام میں آئمہ وموذنین کے امور کے ڈائریکٹر الشیخ وحید بن محمد النحاس نے بتایا کہ مسجد حرام میں 24 موذن حضرات آزان دیتے ہیں۔ ان کا تعلق مکہ معظمہ کے مختلف علاقوں سے ہے۔مسجد حرام میں موذن باری باری اذان دیتے ہیں۔ جس موذن کی باری ہوتی ہے وہ اذان سے ایک گھنٹہ قبل مسجد میں موجود ہوتا ہے۔ ہر نماز میں مستقل موذن کیساتھ ایک ریزرو موذن بھی ہوتا ہے۔ مسجد کے اندر تکبیرات کے لیے بھی ان موذنین کو تکبیرات کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے جو رکوع، سجدوں اور سلام کے موقع پر اپنی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔ معاون ملازم کے ذمہ مسجد حرام میں نماز جنازہ کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔ موذن اور اس کے معاون کو ہنگامی حالات کے لیے بھی خود کو تیار رکھنا پڑتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…