منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوج کو ملک کی 41آرڈننس فیکٹریوں میں کھربوں مالیت سے تیار ناقص غیر معیاری گولہ بارود کی فراہمی، بڑی تعداد میں فوجی ہلاک و زخمی ، آلات کو بھی نقصان

datetime 15  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی(سی پی پی )بھارتی فوج نے مقامی طور پر 41 آرڈیننس فیکٹریوں کی طرف سے فراہم کردہ کھربوں روپے مالیت کے گولہ بارود کے ناقص اور غیر معیاری ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹینکوں، توپوں اور فضائی دفاع کے لئے فراہم کر دہ اس غیر معیاری اور ناقص گولہ بارود کے نتیجہ میں بڑی تعداد میں حادثات رونما ہوئے ہیں۔

جن کے نتیجے بڑی تعداد میں فوجیوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے ساتھ ساتھ آلات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔بھارتی فوج کی طرف سے وزارت دفاع کو دی گئی رپورٹ کے مطابق 2002 سے 2014 کے دوران ان فیکٹریوں سے فراہم کئے گئے ناقص اور غیر معیاری گولہ بارود کی مالیت 14ہزار کروڑ روپے اور 2014 سے 2019 تک ساڑھے سات ہزار کروڑ روپے رہی۔بھارتی فوج کی طرف سے اس حوالے سے جاری پندرہ صفحات کی رپورٹ پر وزیر برائے دفاعی پیداوار اجے کمار نے نوٹس لیتے ہوئے سرکاری فیکٹریوں میں تیار ہونے والے گولہ بارود کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات کی ہدایت کی ہے۔بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس حوالہ سے گولہ بارود کی پیداوار میں نجی شعبہ کی شمولیت کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔یہ تجویز پیش کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گولہ بارود کی تیاری کے شعبہ میں سرکاری شعبہ کی اجارہ داری اور مسابقت کی عدم موجودگی گولہ بارود کے معیار میں کمی کا باعث ہے۔رپورٹ کے مطابق ناقص اور غیر معیاری گولہ بارود کی وجہ سے بھارتی فوج کی 105 ایم ایم فیلڈ گنز، 105 ایم ایم لائٹ فیلڈ گنز، 130 ایم ایم ایم اے ون میڈیم گنز، 40 ایم ایم ایل۔70 ایئر ڈیفنس گنز، ٹی۔72، ٹی۔90 اور ارجن ٹینکس سے فائرنگ کے دوران بہت حادثات پیش آ چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…