پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

عدالت نے پراسیکیوٹر کی جانب سے عارف نقوی کو حراست میں رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا

datetime 4  مئی‬‮  2019 |

لندن(آن لائن) لندن کی عدالت نے دبئی سے تعلق رکھنے والی نجی ایکوٹی فنڈ ابراج کیپیٹل کے بانی عارف نقوی کی 2 کروڑ ڈالر کی مشروط ضمانت منظور کرلی۔ بلوم برگ نے رپورٹ کیا کہ عدالت کے جج نے پراسیکیوٹر کی جانب سے عارف نقوی کو حراست میں رکھنے کی درخواست کو مسترد کردیا۔

عارف نقوی کی جانب سے حاصل کی گئی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ زرضمانت برطانیہ میں ضمانت کے طور پر ادائیگی کا سب سے بڑا حکم ہے۔ رپورٹ میں جج کی بات کو نقل کرتے ہوئے کہا گیا کہ ضمانت کے دوران 58 سالہ عارف نقوی کو اپنی سفری دستاویزات کو لازمی حوالے کرنا ہوگا، برقی ٹیگ پہننا اور لندن میں اپنے گھر میں قیام کرنا ہوگا، عارف نقوی کی ضمانت کی شرائط موثر طریقے سے نظر بند کے مترادف ہیں۔پراسیکیوٹر کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں ڈر ہے کہ یہ امریکی الزامات کا سامنا کرنے کے بجائے پاکستان جاسکتے ہیں۔دوران سماعت امریکی حکومت کے وکیل راچیل کپیلا کا کہنا تھا کہ برقی نگرانی کا ٹیگ کوئی حل نہیں ہے کیونکہ اسانج کے کیس میں جو ملوث ہوا اس کے بارے میں آپ کو بتائیں گے۔تاہم جج کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط کو ان کی ضمانت پر لگایا جائے تو مجھے نہیں لگتا کہ کوئی خطرہ ہے کہ عارف نقوی حکام کے سامنے سرنڈر کرنے میں ناکام رہیں گے۔واضح رہے کہ گیٹس فانڈیشن اور دیگر سرمایہ کاروں کی جانب سے ان کے 1 ارب ڈالر کے صحت فنڈز سے متعلق اٹھائے گئے خدشات کے بعد مشرقی وسطی اور شمالی افریقہ میں سب سے بڑی بے آٹ فنڈ کمپنی ابراج گزشتہ مئی میں ختم ہوگئی تھی۔عارف نقوی کی جانب سے ان تمام الزامات کو مسترد کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اپنے ہی ذاتی مفاد کے لیے رقم نکالنے کا خیال مضحکہ خیز ہے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…