بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سری لنکا دھماکے ، پاکستانیوں کیخلاف بھارتی پراپیگنڈہ بے نقاب

datetime 25  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن ) پاکستان نے بھارتی میڈیا کی جانب سے سری لنکا میں پاکستانی شہریوں کو حالیہ دھماکوں کے حوالے سے حراست میں لینے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ان رپورٹس کو غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا میں چند پاکستانیوں کی حراست کے حوالے سے بھارتی میڈیا کے ایک حلقے کے غیرذمہ دارانہ بیان کو مسترد کرتے ہیں ۔

ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سری لنکا میں ہوئے حالیہ دھماکوں سے پاکستانیوں کو منسلک کرنا بھارتی میڈیا کے ایک حلقے کا مکمل طور پر غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سری لنکن حکام کی جانب سے دی گئیں معلومات کے مطابق حال ہی میں 7 پاکستانیوں کو حراست میں لیا گیا تھا جن پر ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود مزید وقت ٹھہرنے کا الزام تھا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ یہ معاملہ قونصلر کی حدتک ہے لیکن اس کو دوسرے معاملے میں شامل کرنا بددیانتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا کے عناصر کی جانب سے اس طرح کی کوشش سے ایک خاص سوچ کا اظہار ہوتا ہے جس کے تحت کسی بھی سطح پر حقائق کو مسخ کرکے پاکستان کو بدنام کیا جائے۔بھارتی میڈیا کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے سری لنکن قیادت کی توجہ بھی دلائی کہ اس طرح کی من گھڑت، غیر مصدقہ رپورٹس اور قیاس آرائیوں سے بچیں۔خیال رہے کہ سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر گرجاگھروں میں پے در پے حملوں سے 300 سے زائد افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جس کی ذمہ داری حکام نے بین الاقوامی نیٹ ورک پر عائد کی تھی تاہم کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔داعش کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی لیکن حکام اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔

دوسری جانب سے رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ سری لنکن خفیہ ایجنسی کے حکام کو ان ہولناک حملوں کی اطلاع چند گھنٹے پہلے ہی مل چکی تھی۔رپورٹ کے مطابق سری لنکا کی وزارت دفاع اور بھارتی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے افسران نے اپنے سری لنکن ہم منصبوں کو پہلے حملے سے 2 گھنٹے قبل گرجا گھروں کو خطرے کی خصوصی وارننگ سے آگاہ کیا تھا۔رووان ویجیاردھنے کا کہنا تھا کہ ‘وہ تعلیم یافتہ تھے جن میں سے ایک کے پاس قانون کی ڈگری تھی اور دیگر نے برطانیہ اور آسٹریلیا سے تعلیم حاصل کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…