ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کیس کی سماعت کے دور ان تین تعمیراتی کمپنیوں سے کیلئے انتہائی حکم جاری کر دیا

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کیس کی سماعت کے دور ان تین تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ کی گارنٹی مانگتے ہوئے کہاہے کہ 20 مئی تک کام مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائیگی جبکہ عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جمشید اور

جسٹس عبد الستار اصغر میں سے کسی ایک کو ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنا یا جائے ،موجودہ سربراہ جسٹس زاد حسین کام جاری رکھنا چاہتے ہیں تو پنجاب حکومت اس پر بھی غور کرے۔ جمعہ کو جسٹس گلزار احمد کی سربراہی کیں دو رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس گلزار احمد نے پراجیکٹ ڈائریکٹر فضل حلیم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی وجہ سے کام تاخیر کا شکار ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کنٹریکٹر کام نہیں کرتے تو انہیں اٹھا کر پھینک دیں جیل میں ڈال دیں ۔انہوںنے کہاکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر تعمیراتی کمپنیوں سے بلیک میل ہورہے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ تینوں تعمیراتی کمپنیاں ایک ارب کی گارنٹی دیں، مقررہ تاریخ تک کام مکمل نہ ہونے پر گارنٹی ضبط ہوگی۔وکیل تعمیراتی کمپنی نعیم بخاری نے کہاکہ ایک ارب کی گارنٹی نہیں دے سکتے، آپ میرے موکل کو جیل بھیج دیں۔وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ دو ارب کی گارنٹی پہلے دے چکے ہیں، وکیل نعیم بخاری نے کہاکہ ڈیڑھ ارب روپے کے واجبات باقی ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ میٹرو ٹرین پر خطیر رقم خرچ ہوئی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ یہ قومی مفاد کا منصوبہ ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ منصوبے پر تعمیراتی کام کی کوالٹی چیک کرنے کا کوئی میکنزم ہے یا نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ایسا نہ ہو کہ پراجیکٹ دھڑام سے نیچے آگرے۔پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہاکہ ہمارے کنسلٹنٹ تعمیراتی کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے تین تعمیراتی کمپنیوں سے ایک ایک کروڑ کی گارنٹی مانگتے ہوئے واضح کیا کہ کہ 20 مئی تک کام مکمل نہ ہوا تو گارنٹی ضبط کر لی جائیگی۔ کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…