پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیر پر مذاکرات ہونگےیا نہیں ؟ نریندرا مودی کا دو ٹوک اعلان

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

جموں (اے این این ) بھارتی نریندر مودی نے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر مذاکرات ہونگے نہ فوج میں کمی،نہ ہی کالے قوانین کا خاتمہ کرینگے،مقبوضہ کشمیر کا الگ وزیر اعظم بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، بنگالی اور پاکستانی مہاجرین کو وادی کی مستقل شہریت دے دیں گے ،کشمیری پنڈتوں کی باعزت کشمیر واپسی یقینی بنا ئیں گے ،نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر جموں وکشمیر کی تین نسلوں کونوچا اور نچوڑا ہے ۔

جموں کے ضلع کھٹوعہ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی 40 منٹ تقریر کے دوران کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی پر جموں وکشمیر کی تین نسلوں کو نوچنے اور نچوڑنے کا الزام عائد کردیا۔ مودی نے کہا گذشتہ کچھ دنوں کے دوران آپ نے بھی دیکھا کہ کس طرح کانگریس، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی مہا ملاوٹ پوری طرح سے ایکسپوز ہوگئی، کھل کر سامنے آگئی ہے، برسوں سے جو ان کے من میں تھا، جو وہ چاہتے تھے، چوری چھپے جس کے لئے کام کررہے تھے، وہ اب کھلے عام سامنے آگیا ۔ انہوں نے کہا آئے دن یہ جموں وکشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں، خون خرابے کی دھمکی دے رہے ہیں، یہاں الگ وزیر اعظم بنانے کی دھمکی دے رہے ہیں، پہلے پاکستان بھی نیوکلیئر نیوکلیئر کہہ کر دھمکا تا تھا، ان کے نیوکلیئر کی ہوا نکل گئی ہے؟ یہ بھی دھمکیاں دے رہے ہیں، ان کو دو پردھان چایئے۔ مودی نے جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا میں ان سبھی بھونسوادیوں سے ایک بات صاف کرنا چاہتا ہوں، جموں وکشمیر کا کوئی بھونسوادی اپنی وصیت میں لکھواکر نہیں لایا ہے، جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، جموں ہو، کشمیر ہو ، لیہہ لداخ ہو یہاں کا بچہ بچہ بھارتی ہے، کچھ مٹھی بھر لوگوں کی خواہشات کا یہاں کے لوگ غلام نہیں۔ وزیر اعظم نے کہا جموں وکشمیر کی تین نسلوں کو ان دو کنبوں(شیخ خاندان اور مفتی خاندان)نے تباہ کیا ہے، انہوں نے یہاں کی تین نسلوں کو نوچ لیا ہے اور نچوڑ لیا ہے۔ جموں وکشمیر کے بہتر مستقبل کے لئے ان دونوں کنبوں کی رخصتی ہونی چاہیے۔ مودی نے کانگریس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے آزادی کے وقت جو غلطیاں کی ، وہ بھارت آج بھگت رہا ہے۔اب وہ اقتدار سے باہر ہے۔ واپسی کے لئے ساری حدیں توڑتی جارہی ہیں۔

آزادی سے پہلے کی کانگریس الگ تھی اور آزادی کے بعد گاندھی جی کی رخصتی کے بعد والی کانگریس الگ ہے۔ کانگریس کے خون میں ایسے جراثیم گھس گئے ہیں ، اس لئے کانگریس ایسی بول رہی ہے کہ وہ جموں وکشمیر سے فوج کو ہٹا دے گی۔ انہوں نے کہا کانگریس کہہ رہی ہے کہ پاکستان سے پیسے لیکر نوجوانوں کو بھڑکانے والوں کے ساتھ بنا شرط بات کرے گی۔ کانگریس والو کس مجبوری میں یہ بات کہہ رہے ہو۔ ان انتخابات میں کس نے

آپ کو مدد کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس کہہ رہی ہے کہ وہ یہاں لڑ رہے جوانوں کو حاصل خصوصی اختیارات بھی ختم کرے گی۔ کیا یہ ہمارے فورسز کا حوصلہ توڑنے کی سازش ہے یا نہیں ؟ کانگریس بھارت یا پاکستان کے مفاد کی بات کررہی ہے؟ کانگریس کتنی بھی کوشش کرلے وہ دیش کا بھروسہ کھوچکی ہے۔ جو ووٹ کے لئے ہمارے جموں وکشمیر کو مشکل میں ڈال دے، ہمارے جوانوں کو لاچار کردے ایسی کانگریس پر دیس بھروسہ نہیں کرسکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…