منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

سانحہ کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے اپنا ایک اور وعدہ پورا کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

ویلنگٹن(این این آئی)نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور فوجی طرز کے نیم خودکار آتشیں ہتھیار رکھنے پر پابندی کے قانون کی منظوری دے دی ہے اور اس قانون کاآج ( جمعہ سے) ملک میں اطلاق ہوجائے گا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ نے یہ قانون گذشتہ ماہ کرائس چرچ کی دو مساجد میں ایک آسٹریلوی دہشت گرد کی اندھا دھند فائرنگ سے پچاس نمازیوں کی شہادت کے بعد منظور کیا ہے۔

وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے اس قانون پر بحث میں لیتے ہوئے کہاکہ میں نے اس قتل عام کے بعد کسی وسیع طرح مشاورت کے بغیر ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ حکومت کو اس ضمن میں کوئی اقدام کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ مجھے پولیس کمشنر نے بریفنگ کے دوران میں حملے میں استعمال ہونے والے اور قانونی طور پر حاصل کردہ ہتھیار کے بارے میں بتایا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ قانونی طور پر حاصل کردہ ہتھیار اس طرح کی تباہی پھیلاسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا موجب ہوسکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ عوام یا دہشت گردی کے اس حملے کے متاثرین کا سامنا نہیں کرسکتی تھیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر انھیں یہ نہیں کہہ سکتی تھیں کہ یہ ہمارا نظام اور ہمارے قوانین ہی ہیں جنھوں نے ایسی بندوقیں رکھنے کی اجازت دی تھی۔اس نئے قانون کے تحت نیوزی لینڈ کے 1983ء سے نافذ العمل بندوق پر پابندی کے قانون میں ترمیم کی گئی ہے۔اس قانون میں پہلے بھی بہت سی ترامیم کی جا چکی ہے۔اس قانون کی صرف ایک جماعت ایکٹ پارٹی نے مخالفت کی ہے۔نیوزی لینڈ کی 120 ارکان پر مشتمل پارلیمان میں اس جماعت کی صرف ایک نشست ہے۔نئے قانون کے تحت حکومت شہریوں یا ڈیلروں کے پاس موجود نیم خودکار آتشیں ہتھیاروں کو واپس خرید کرے گی۔شہریوں پر ایسے ہتھیار رکھنے پر پابندی ہوگی۔ جو کوئی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا،اس کو دو سے دس سال تک قید با مشقت کی سزا دی جائے گی۔ حکومت کی ایمنسٹی اسکیم کے تحت 30 ستمبر 2019ء تک شہری اپنے آتشیں ہتھیار حکام کو واپس جمع کراسکتے ہیں اور کی قیمت وصول کرسکتے ہیں۔منظور کردہ نئے قانون کے تحت نیم خودکار ہتھیاروں ، میگزین اور ممنوعہ ہتھیاروں کو جوڑنے میں کام آنے والے آلات اور پرزوں کے رکھنے پر بھی پابندی ہوگی۔اس قانون کی

اب صرف شاہی منظوری درکار ہے اور بالعموم ایسے قوانین کی شاہی توثیق کر ہی دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی پارلیمان میں یہ بل یکم اپریل کو متعارف کرایا گیا تھا اور اس کی محض دس روز میں منظوری پر گن پر کنٹرول کے مؤیدین بھی حیرت زدہ رہ گئے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…